حدیث نمبر: 471
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ : " مَنْ فَاتَهُ حِزْبُهُ مِنَ اللَّيْلِ فَقَرَأَهُ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ إِلَى صَلَاةِ الظُّهْرِ ، فَإِنَّهُ لَمْ يَفُتْهُ أَوْ كَأَنَّهُ أَدْرَكَهُ "
علامہ وحید الزماں
عبداللہ بن عبدالقاری سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس کسی کے وِرد کا رات کو ناغہ ہو جائے اور وہ دوسرے دن زوال تک ظہر کی نماز تک پڑھ لے تو گویا فوت نہیں ہوا بلکہ اس نے پا لیا۔
حدیث نمبر: 472
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنْتُ أَنَا وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ جَالِسَيْنِ فَدَعَا مُحَمَّدٌ رَجُلًا ، فَقَالَ : أَخْبِرْنِي بِالَّذِي سَمِعْتَ مِنْ أَبِيكَ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُ أَتَى زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، فَقَالَ لَهُ : كَيْفَ تَرَى فِي قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي سَبْعٍ ؟ فَقَالَ زَيْدٌ : " حَسَنٌ وَلَأَنْ أَقْرَأَهُ فِي نِصْفٍ أَوْ عَشْرٍ أَحَبُّ إِلَيَّ وَسَلْنِي لِمَ ذَاكَ " ، قَالَ : فَإِنِّي أَسْأَلُكَ ، قَالَ زَيْدٌ : " لِكَيْ أَتَدَبَّرَهُ وَأَقِفَ عَلَيْهِ "
علامہ وحید الزماں
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں اور محمد بن یحییٰ بن حبان بیٹھے ہوئے تھے، سو محمد نے ایک شخص کو بلایا اور کہا: تم نے جو اپنے باپ سے سنا ہے اس کو بیان کرو۔ اس شخص نے کہا: میرا باپ گیا سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس اور اُن سے پوچھا کہ سات روز میں کلام اللہ تمام کرنا کیسا ہے؟ بولے: اچھا ہے میرے نزدیک پندرہ روز یا بیس روز میں تمام کرنا بہتر ہے، پوچھو مجھ سے کیوں؟ کہا انہوں نے۔ میں نے پوچھا: کیوں؟ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: تاکہ میں اس کو سمجھتا جاؤں یاد رکھتا جاؤں۔