کتب حدیث ›
موطا امام مالك رواية يحييٰ › ابواب
› باب: پاخانہ یا پیشاب میں قبلہ کی طرف منہ کرنے کی اجازت
حدیث نمبر: 456
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : إِنَّ أُنَاسًا يَقُولُونَ : إِذَا قَعَدْتَ عَلَى حَاجَتِكَ فَلَا تَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلَا بَيْتَ الْمَقْدِسِ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَقَدِ ارْتَقَيْتُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ لَنَا ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ لِحَاجَتِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " لَعَلَّكَ مِنَ الَّذِينَ يُصَلُّونَ عَلَى أَوْرَاكِهِمْ " . قَالَ : قُلْتُ : لَا أَدْرِي وَاللَّهِ . ¤ قَالَ مَالِك : يَعْنِي الَّذِي يَسْجُدُ وَلَا يَرْتَفِعُ عَلَى الْأَرْضِ ، يَسْجُدُ وَهُوَ لَاصِقٌ بِالْأَرْضِ
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ کہتے تھے: بعض لوگ سمجھتے ہیں جب تو اپنی حاجت کو جائے تو منہ نہ کر قبلہ اور بیت المقدس کی طرف۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا، تو میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو، دو اینٹوں پر حاجت ادا کر رہے ہیں منہ ان کا بیت المقدس کی طرف ہے۔ پھر کہا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے واسع بن حبان سے: شاید تو ان لوگوں میں سے ہے جو اپنی سرینوں پر نماز پڑھتے ہیں۔ واسع نے کہا: میں نہیں سمجھا۔
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے اس قول کی تفسیر میں: وہ لوگ ہیں جو سجدہ میں زمین سے لگ جاتے ہیں اور اپنی پیٹھ کو سرین سے جدا نہیں رکھتے۔
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے اس قول کی تفسیر میں: وہ لوگ ہیں جو سجدہ میں زمین سے لگ جاتے ہیں اور اپنی پیٹھ کو سرین سے جدا نہیں رکھتے۔