کتب حدیث ›
موطا امام مالك رواية يحييٰ › ابواب
› باب: عیدین کے غسل کا بیان اور ان میں اذان اور اقامت کا بیان
حدیث نمبر: Q428
عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللّٰهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَغْتَسِلُ يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ يَغْدُوَ إِلَى الْمُصَلَّى. ¤ عَنْ مَالِكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ غَيْرَ وَاحِدٍ مِنْ عُلَمَائِهِمْ يَقُولُ : لَمْ يَكُنْ فِي عِيدِ الْفِطْرِ وَلَا فِي الْأَضْحَى ، نِدَاءٌ ، وَلَا إِقَامَةٌ ، مُنْذُ زَمَانِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَوْمِ . ¤ قَالَ مَالِكٌ : وَتِلْكَ السُّنَّةُ الَّتِي لَا اخْتِلَافَ فِيهَا عِنْدَنَا
علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما غسل کرتے تھے عید الفطر کے دن قبل عیدگاہ جانے کے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں نے سنا ہے بہت علماء سے کہتے تھے: عید الفطر اور عید الاضحیٰ میں اذان اور اقامت نہ تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے اب تک۔
امام مالک رحمہ اللہ نے کہا: ہمارے نزدیک اس میں کچھ اختلاف نہیں۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں نے سنا ہے بہت علماء سے کہتے تھے: عید الفطر اور عید الاضحیٰ میں اذان اور اقامت نہ تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے اب تک۔
امام مالک رحمہ اللہ نے کہا: ہمارے نزدیک اس میں کچھ اختلاف نہیں۔
حدیث نمبر: 428
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " كَانَ يَغْتَسِلُ يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ يَغْدُوَ إِلَى الْمُصَلَّى "
علامہ وحید الزماں
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سيدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما عید الفطر کے دن عیدگاہ کی طرف جانے سے پہلے غسل کرلیا کرتے تھے۔