حدیث نمبر: 412
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِأَبِي الْعَاصِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا وَإِذَا قَامَ حَمَلَهَا "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے اپنی نواسی امامہ کو جو بیٹی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی تھیں سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہ سے، اٹھائے ہوئے، تو جب سجدہ کرتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھا دیتے ان کو زمین پر، جب کھڑے ہوتے اٹھا لیتے۔
حدیث نمبر: 413
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلَائِكَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلَائِكَةٌ بِالنَّهَارِ ، وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ وَصَلَاةِ الْفَجْرِ ، ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ فَيَسْأَلُهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي ؟ فَيَقُولُونَ : تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آتے جاتے رہتے ہیں فرشتے تمہارے پاس رات کے جدا اور دن کے جدا، اور جمع ہو جاتے ہیں سب عصر کی اور فجر کی نماز میں، پھر وہ فرشتے جو رات کو تمہارے ساتھ رہتے ہیں چڑھ جاتے ہیں اور پس پوچھتا ہے ان سے پروردگار اور خوب جانتا ہے ”کس حال میں چھوڑا تم نے میرے بندوں کو۔“ کہتے ہیں: ”ہم نے چھوڑا ان کو نماز میں اور جب ہم گئے تھے جب بھی نماز پڑھتے تھے۔“
حدیث نمبر: 414
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ " فَقَالَتْ عَائِشَةُ : إِنَّ أَبَا بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ فَمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ ، قَالَ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ : قُولِي لَهُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ ، فَمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ ، فَفَعَلَتْ حَفْصَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ " . فَقَالَتْ حَفْصَةُ ، لِعَائِشَةَ : مَا كُنْتُ لِأُصِيبَ مِنْكِ خَيْرًا
علامہ وحید الزماں
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم کیا مرض موت میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نماز پڑھانے کا، تو کہا میں نے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو روتے روتے ان کی آواز نہ نکلے گی، تو حکم کیجئے سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نماز پڑھانے کا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کہو ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نماز پڑھانے کو۔“ کہا سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہ میں نے سیدہ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا: تم کہو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جگہ میں کھڑے ہوں گے تو روتے روتے ان کی آواز نہ نکلے گی، بس حکم کیجئے سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نماز پڑھانے کا۔ سو کہا سیدہ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے، تب فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”تم یوسف کی ساتھی عورتوں کی طرح ہو، کہو ابوبکر رضی اللہ عنہ سے نماز پڑھانے کو۔“ بس کہا سیدہ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے: تم سے مجھے بھلائی نہ ہوئی۔
حدیث نمبر: 415
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ ، أَنَّهُ قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَسَارَّهُ فَلَمْ يُدْرَ مَا سَارَّهُ بِهِ ، حَتَّى جَهَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ يَسْتَأْذِنُهُ فِي قَتْلِ رَجُلٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَهَرَ : " أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ " ، فَقَالَ الرَّجُلُ : بَلَى ، وَلَا شَهَادَةَ لَهُ ، فَقَالَ : " أَلَيْسَ يُصَلِّي " ، قَالَ : بَلَى ، وَلَا صَلَاةَ لَهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُولَئِكَ الَّذِينَ نَهَانِي اللَّهُ عَنْهُمْ "
علامہ وحید الزماں
عبیداللہ بن عدی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے لوگوں میں، اتنے میں ایک شخص آیا اور کان میں کچھ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے لگا، ہم کو خبر نہیں ہوئی کیا کہتا ہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پکار کر بول اٹھے تب معلوم ہوا کہ وہ شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک منافق کے قتل کی اجازت چاہتا تھا، تو جب پکار اُٹھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ شخص گواہی نہیں دیتا اس امر کی کہ کوئی معبودِ حق نہیں ہے سوا اللہ کے۔ اور محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم بے شک اس کے رسول ہیں؟“ اس شخص نے کہا: ہاں، مگر اس کی گواہی کا کچھ اعتبار نہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا: ”کیا وہ نماز نہیں پڑھتا؟“ بولا: ہاں، پڑھتا ہے لیکن اس کی نماز کا کچھ اعتبار نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے لوگوں کے قتل سے منع کیا ہے مجھ کو اللہ نے۔“
حدیث نمبر: 416
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِي وَثَنًا يُعْبَدُ ، اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى قَوْمٍ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ "
علامہ وحید الزماں
حضرت عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے پروردگار! مت بنا میری قبر کو بت کہ لوگ اس کو پوجیں، بہت بڑا غضب اللہ کا ان لوگوں پر ہے جنہوں نے اپنے پیغمبروں کی قبروں کو مسجد بنا لیا۔“
حدیث نمبر: 417
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ يَؤُمُّ قَوْمَهُ وَهُوَ أَعْمَى ، وَأَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهَا تَكُونُ الظُّلْمَةُ وَالْمَطَرُ وَالسَّيْلُ ، وَأَنَا رَجُلٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ ، فَصَلِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي بَيْتِي مَكَانًا أَتَّخِذْهُ مُصَلًّى ، فَجَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ ؟ " فَأَشَارَ لَهُ إِلَى مَكَانٍ مِنَ الْبَيْتِ ، فَصَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
علامہ وحید الزماں
سیدنا محمود بن لبید انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ امامت کرتے تھے اپنی قوم کی، اور ان کی بینائی میں ضعف تھا، کہا انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے: کبھی اندھیرا یا پانی یا بہاؤ ہوتا ہے اور میری بینائی میں فرق ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر میں کسی مقام پر نماز پڑھ دیجئے تاکہ میں اس جگہ کو اپنا مصلیٰ بناؤں۔ پس آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور کہا: ”کس جگہ تم پسند کرتے ہو نماز میری؟“ انہوں نے ایک جگہ بتا دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں نماز پڑھ دی۔
حدیث نمبر: 418
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، " أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَلْقِيًا فِي الْمَسْجِدِ ، وَاضِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چت لیتے ہوئے تھے مسجد میں، ایک پاؤں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دوسرے پاؤں پر تھا۔
حدیث نمبر: 419
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، وَعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، كَانَا يَفْعَلَانِ ذَلِكَ
علامہ وحید الزماں
سعید بن مسیّب سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہما ایسا کیا کرتے تھے (یعنی ایک پاؤں دوسرے پاؤں پر رکھ کرچت لیٹتے تھے)۔
حدیث نمبر: 420
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ لِإِنْسَانٍ : " إِنَّكَ فِي زَمَانٍ كَثِيرٌ فُقَهَاؤُهُ ، قَلِيلٌ قُرَّاؤُهُ ، تُحْفَظُ فِيهِ حُدُودُ الْقُرْآنِ وَتُضَيَّعُ حُرُوفُهُ ، قَلِيلٌ مَنْ يَسْأَلُ كَثِيرٌ مَنْ يُعْطِي ، يُطِيلُونَ فِيهِ الصَّلَاةَ وَيَقْصُرُونَ الْخُطْبَةَ ، يُبَدُّونَ أَعْمَالَهُمْ قَبْلَ أَهْوَائِهِمْ ، وَسَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ قَلِيلٌ فُقَهَاؤُهُ كَثِيرٌ قُرَّاؤُهُ ، يُحْفَظُ فِيهِ حُرُوفُ الْقُرْآنِ وَتُضَيَّعُ حُدُودُهُ ، كَثِيرٌ مَنْ يَسْأَلُ قَلِيلٌ مَنْ يُعْطِي ، يُطِيلُونَ فِيهِ الْخُطْبَةَ وَيَقْصُرُونَ الصَّلَاةَ ، يُبَدُّونَ فِيهِ أَهْوَاءَهُمْ قَبْلَ أَعْمَالِهِمْ "
علامہ وحید الزماں
یحییٰ ابن سعید سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ایک شخص سے: تم ایسے زمانے میں ہو کہ عالم اس میں بہت ہیں، صرف لفظ پڑھنے والے کم ہیں، عمل کیا جاتا ہے قرآن کے حکموں پر، اور لفظوں کا ایسا خیال نہیں کیا جاتا، پوچھنے والے کم ہیں، جواب دینے والے بہت ہیں، یا بھیک مانگنے والے کم ہیں اور دینے والے بہت ہیں، لمبا کرتے ہیں نماز کو اور چھوٹا کرتے ہیں خطبہ کو، نیک عمل پہلے کرتے ہیں اور نفس کی خواہش کو مقدم نہیں کرتے، اور قریب ہے کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ کم ہوں گے عالم اس وقت میں، الفاظ پڑھنے والے بہت ہوں گے، یاد کیے جائیں گے الفاظ قرآن کے، اور اس کے حکموں پر عمل نہ کیا جائے گا، پوچھنے والے اور مانگنے والے بہت ہوں گے اور جواب دینے والے اور دینے والے بہت کم ہوں گے، لمبا کریں گے خطبہ کو اور چھوٹا کریں گے نماز کو، اپنی خواہشِ نفس پر چلیں گے اور عمل نیک نہ کریں گے۔
حدیث نمبر: 421
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ قَالَ : بَلَغَنِي ، " أَنَّ أَوَّلَ مَا يُنْظَرُ فِيهِ مِنْ عَمَلِ الْعَبْدِ الصَّلَاةُ ، فَإِنْ قُبِلَتْ مِنْهُ نُظِرَ فِيمَا بَقِيَ مِنْ عَمَلِهِ ، وَإِنْ لَمْ تُقْبَلْ مِنْهُ لَمْ يُنْظَرْ فِي شَيْءٍ مِنْ عَمَلِهِ "
علامہ وحید الزماں
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ پہنچا ان کو: قیامت کے دن پہلے نماز دیکھی جائے گی، اگر نماز قبول ہوگئی تو پھر اور عمل اس کے دیکھے جائیں گے، ورنہ کوئی عمل پھر نہ دیکھا جائے گا۔
حدیث نمبر: 422
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ "
علامہ وحید الزماں
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ کام بہت پسند تھا جو ہمیشہ آدمی اس کو کرتا رہے۔
حدیث نمبر: 423
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : كَانَ رَجُلَانِ أَخَوَانِ فَهَلَكَ أَحَدُهُمَا قَبْلَ صَاحِبِهِ بِأَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، فَذُكِرَتْ فَضِيلَةُ الْأَوَّلِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَلَمْ يَكُنِ الْآخَرُ مُسْلِمًا " ، قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَانَ لَا بَأْسَ بِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَمَا يُدْرِيكُمْ مَا بَلَغَتْ بِهِ صَلَاتُهُ ، إِنَّمَا مَثَلُ الصَّلَاةِ كَمَثَلِ نَهْرٍ غَمْرٍ عَذْبٍ بِبَاب أَحَدِكُمْ ، يَقْتَحِمُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ ، فَمَا تَرَوْنَ ذَلِكَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ مَا بَلَغَتْ بِهِ صَلَاتُهُ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ دو بھائی تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں، ان میں سے ایک دوسرے سے چالیس دن پہلے مر گیا تو لوگوں نے تعریف کی اس کی جو پہلے مرا تھا۔ تب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کیا جانو دوسرے کی نماز نے اس کو کس درجہ پر پہنچایا؟ نماز کی مثال ایسی ہے جیسے ایک نہر میٹھے پانی کی بہت گہری کسی کے دروازے پر بہتی ہو، اور وہ اس میں پانچ وقت غوطہ لگایا کرے، کیا اس کے بدن پر کچھ میل رہے گا؟ پھر تم کیا جانو کہ نماز نے دوسرے بھائی کا مرتبہ کس درجہ کو پہنچایا۔“
حدیث نمبر: 424
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ كَانَ إِذَا مَرَّ عَلَيْهِ بَعْضُ مَنْ يَبِيعُ فِي الْمَسْجِدِ دَعَاهُ ، فَسَأَلَهُ : " مَا مَعَكَ , وَمَا تُرِيدُ ؟ " فَإِنْ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَبِيعَهُ ، قَالَ : " عَلَيْكَ بِسُوقِ الدُّنْيَا وَإِنَّمَا هَذَا سُوقُ الْآخِرَةِ "
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ عطاء بن یسار جب دیکھتے کسی شخص کو جو سودا بیچتا ہے مسجد میں، پھر بلاتے اس کو، پھر پوچھتے اس سے: کیا ہے تیرے پاس اور تو کیا چاہتا ہے؟ اگر وہ بولتا کہ میں بیچنا چاہتا ہوں، تو کہتے: جا تو دنیا کے بازار میں، یہ تو آخرت کا بازار ہے۔
حدیث نمبر: 425
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَنَى رَحْبَةً فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ تُسَمَّى الْبُطَيْحَاءَ ، وَقَالَ : " مَنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَلْغَطَ ، أَوْ يُنْشِدَ شِعْرًا ، أَوْ يَرْفَعَ صَوْتَهُ فَلْيَخْرُجْ إِلَى هَذِهِ الرَّحْبَةِ "
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک جگہ بنا دی مسجد کے کونے میں، اس کا نام بطیحاء تھا، اور کہہ دیا تھا کہ جو کوئی بک بک کرنا چاہے، یا اشعار پڑھنا چاہیے، یا پکارنا چاہے، تو اس جگہ کو چلا جائے۔