حدیث نمبر: 400
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ ، وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ ، وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ ، وَبَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ رَكْعَتَيْنِ ، وَكَانَ لَا يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ حَتَّى يَنْصَرِفَ فَيَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے ظہر کے اوّل دو رکعتیں، اور بعد ظہر کے دو رکعتیں، اور بعد مغرب کے دو رکعتیں اپنے گھر میں، اور بعد عشاء کے دو رکعتیں، اور نہیں پڑھتے تھے بعد جمعہ کے مسجد میں یہاں تک کہ گھر میں آتے تو دو رکعتیں پڑھتے۔
حدیث نمبر: 401
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَتَرَوْنَ قِبْلَتِي هَاهُنَا ، فَوَاللَّهِ مَا يَخْفَى عَلَيَّ خُشُوعُكُمْ وَلَا رُكُوعُكُمْ ، إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دیکھتے ہو میرا منہ قبلہ کی طرف، قسم اللہ کی! مجھ سے چھپا نہیں ہے خشوع تمہارا نماز میں اور رکوع تمہارا، میں دیکھتا ہوں تم کو پیٹھ کے پیچھے سے۔“
حدیث نمبر: 402
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَأْتِي قُبَاءَ رَاكِبًا وَمَاشِيًا "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آتے تھے قباء میں سوار ہو کر اور پیدل۔
حدیث نمبر: 403
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ مُرَّةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا تَرَوْنَ فِي الشَّارِبِ وَالسَّارِقِ وَالزَّانِي ؟ " وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُنْزَلَ فِيهِمْ ، قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " هُنَّ فَوَاحِشُ وَفِيهِنَّ عُقُوبَةٌ وَأَسْوَأُ السَّرِقَةِ الَّذِي يَسْرِقُ صَلَاتَهُ " ، قَالُوا : وَكَيْفَ يَسْرِقُ صَلَاتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لَا يُتِمُّ رُكُوعَهَا وَلَا سُجُودَهَا "
علامہ وحید الزماں
حضرت نعمان بن مروہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا رائے ہے تمہاری اس شخص میں جو شراب پئے، اور چوری کرے، اور زنا کرے؟“ اور یہ امر تھا حکم اترنے سے قبل ان کے باب میں۔ تو کہا صحابہ رضی اللہ عنہم نے: اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ برے کام ہیں، ان میں سزا ضرور ہے، اور سب چوریوں میں بری چوری نماز کی چوری ہے۔“ پوچھا صحابہ رضی اللہ عنہم نے: نماز کا چور کیونکر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کا چور وہ ہے جو رکوع اور سجدہ کو پورا نہ کرے۔“
حدیث نمبر: 404
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اجْعَلُوا مِنْ صَلَاتِكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ "
علامہ وحید الزماں
حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ ایک حصہ اپنی نماز میں سے اپنے گھروں میں ادا کرو۔“
حدیث نمبر: 405
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، كَانَ يَقُولُ : " إِذَا لَمْ يَسْتَطِعِ الْمَرِيضُ السُّجُودَ ، أَوْمَأَ بِرَأْسِهِ إِيمَاءً وَلَمْ يَرْفَعْ إِلَى جَبْهَتِهِ شَيْئًا "
علامہ وحید الزماں
حضرت نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: بیمار کو اگر سجدہ کرنے کی طاقت نہ ہو تو اپنے سر سے اشارہ کرے، لیکن کوئی چیز اپنی پیشانی کے سامنے اونچی نہ رکھے۔
حدیث نمبر: 406
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " كَانَ إِذَا جَاءَ الْمَسْجِدَ وَقَدْ صَلَّى النَّاسُ بَدَأَ بِصَلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ وَلَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا شَيْئًا "
علامہ وحید الزماں
حضرت ربیعہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب آتے مسجد میں اور معلوم ہوتا کہ جماعت ہو چکی ہے، تو فرض شروع کرتے اور سنتیں نہ پڑھتے۔
حدیث نمبر: 407
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، فَرَدَّ الرَّجُلُ كَلَامًا فَرَجَعَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، فَقَالَ لَهُ : " إِذَا سُلِّمَ عَلَى أَحَدِكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَا يَتَكَلَّمْ وَلْيُشِرْ بِيَدِهِ "
علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما گزرے ایک شخص پر اور وہ نماز پڑھ رہے تھے تو سلام کیا اس کو، اس نے جواب دیا زبان سے، پھر لوٹے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور کہا اس سے: جب کوئی سلام کرے تم پر اور تم نماز پڑھتے ہو تو زبان سے جواب نہ دو، بلکہ ہاتھ سے اشارہ کر دو۔
حدیث نمبر: 408
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، كَانَ يَقُولُ : " مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلَمْ يَذْكُرْهَا إِلَّا وَهُوَ مَعَ الْإِمَامِ ، فَإِذَا سَلَّمَ الْإِمَامُ فَلْيُصَلِّ الصَّلَاةَ الَّتِي نَسِيَ ، ثُمَّ لِيُصَلِّ بَعْدَهَا الْأُخْرَى "
علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے تھے: جو شخص بھول جائے نماز کو پھر یاد کرے اور وہ دوسری نماز میں امام کے پیچھے ہو تو جب امام سلام پھیرے تو چاہیے کہ اس نماز کو پڑھ کر جو نماز امام کے ساتھ پڑھی ہے اس کا اعادہ کرے۔
حدیث نمبر: 409
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنْتُ أُصَلِّي ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى جِدَارِ الْقِبْلَةِ ، فَلَمَّا قَضَيْتُ صَلَاتِي انْصَرَفْتُ إِلَيْهِ مِنْ قِبَلِ شِقِّي الْأَيْسَرِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : " مَا مَنَعَكَ أَنْ تَنْصَرِفَ عَنْ يَمِينِكَ ؟ " قَالَ : فَقُلْتُ : رَأَيْتُكَ فَانْصَرَفْتُ إِلَيْكَ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " فَإِنَّكَ قَدْ أَصَبْتَ إِنَّ قَائِلًا يَقُولُ : انْصَرِفْ عَنْ يَمِينِكَ فَإِذَا كُنْتَ تُصَلِّي ، فَانْصَرِفْ حَيْثُ شِئْتَ إِنْ شِئْتَ عَنْ يَمِينِكَ ، وَإِنْ شِئْتَ عَنْ يَسَارِكَ
علامہ وحید الزماں
حضرت واسع بن حبان سے روایت ہے کہ میں نماز پڑھ رہا تھا اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما قبلہ کی طرف پیٹھ کئے ہوئے بیٹھے تھے، تو جب نماز سے میں فارغ ہوا بائیں طرف سے مڑ کر ان کے پاس گیا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا: تو داہنی طرف سے مڑ کر کیوں نہ آیا؟ میں نے کہا کہ آپ کو دیکھ کر بائیں طرف سے مڑ کر چلا آیا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: تو نے اچھا کیا، ایک صاحب کہتے ہیں کہ جب نماز پڑھ چکے تو داہنی طرف سے مڑ، مگر تو جب نماز پڑھے تو جدھر سے چاہے مڑ کر جا، داہنی طرف سے یا بائیں طرف سے۔
حدیث نمبر: 410
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ لَمْ يَرَ بِهِ بَأْسًا ، أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَأُصَلِّي فِي عَطَنِ الْإِبِلِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " لَا ، وَلَكِنْ صَلِّ فِي مُرَاحِ الْغَنَمِ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا : کیا نماز پڑھوں میں اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ میں؟ کہا: نہیں، لیکن پڑھ لے بکری کے تھانوں میں۔
حدیث نمبر: 411
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَا صَلَاةٌ يُجْلَسُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ مِنْهَا " ، ثُمَّ قَالَ سَعِيدٌ : " هِيَ الْمَغْرِبُ إِذَا فَاتَتْكَ مِنْهَا رَكْعَةٌ وَكَذَلِكَ سُنَّةُ الصَّلَاةِ كُلُّهَا "
علامہ وحید الزماں
حضرت سعید بن مسیّب رحمہ اللہ نے کہا کہ وہ کونسی نماز ہے جس میں ہر رکعت کے بعد بیٹھنا پڑے؟ پھر خود ہی کہا: وہ نماز مغرب کی ہے جب ایک رکعت فوت ہو جائے امام کے ساتھ۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: یہی طریقہ ہے کل نمازوں کا۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: یہی طریقہ ہے کل نمازوں کا۔