کتب حدیث ›
موطا امام مالك رواية يحييٰ › ابواب
› باب: چاشت کی نماز کا بیان (جس کو اشراق کی نماز بھی کہتے ہیں ، وقت اس کا آفتاب کے بلند ہونے سے دوپہر تک ہے)
حدیث نمبر: 356
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ مُوسَى بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى عَامَ الْفَتْحِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ "
علامہ وحید الزماں
سیدہ اُم ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس سال مکہ فتح ہوا آٹھ رکعتیں چاشت کی پڑھیں، اور ایک کپڑا اوڑھ کر۔
حدیث نمبر: 357
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ ، تَقُولُ : ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ ، قَالَتْ : فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " مَنْ هَذِهِ ؟ " فَقُلْتُ : أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ ، فَقَالَ : " مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ " فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ قَامَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ زَعَمَ ابْنُ أُمِّي عَلِيٌّ أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلًا أَجَرْتُهُ فُلَانُ بْنُ هُبَيْرَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ " . قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ : وَذَلِكَ ضُحًى
علامہ وحید الزماں
سیدہ اُم ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں گئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جس سال فتح ہوا مکہ، تو پایا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل کرتے ہوئے، اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیٹی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چھپائے ہوئے تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑے سے۔ کہا سیدہ اُم ہانی رضی اللہ عنہا نے: سلام کیا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”کون ہے؟“ میں نے کہا: اُم ہانی بیٹی ابوطالب کی۔ تب فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”خوشی ہو اُم ہانی کو۔“ پھر جب فارغ ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل سے، کھڑے ہو کر آٹھ رکعتیں پڑھیں ایک کپڑا پہن کر، جب نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے بھائی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں مار ڈالوں گا اس شخص کو جس کو تو نے پناہ دی ہے، وہ شخص فلان بیٹا ہبیرہ کا ہے۔ پس فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”ہم نے پناہ دی اس شخص کو جس کو تو نے پناہ دی اے اُم ہانی!“ کہا سیدہ اُم ہانی رضی اللہ عنہا نے: اس وقت چاشت کا وقت تھا۔
حدیث نمبر: 358
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي سُبْحَةَ الضُّحَى قَطُّ ، وَإِنِّي لَأَسْتَحِبُّهَا وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَدَعُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَهُ ، خَشْيَةَ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ "
علامہ وحید الزماں
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نہیں دیکھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز چاشت کی پڑھتے ہوئے کبھی مگر میں پڑھتی ہوں اس کو، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاعدہ تھا کہ ایک بات کو درست رکھتے تھے مگر اس کو نہیں کرتے تھے اس خوف سے کہ لوگ بھی اس کو کرنے لگیں اور وہ فرض ہو جائے۔
حدیث نمبر: 359
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا كَانَتْ تُصَلِّي الضُّحَى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ ، ثُمَّ تَقُولُ : " لَوْ نُشِرَ لِي أَبَوَايَ مَا تَرَكْتُهُنَّ "
علامہ وحید الزماں
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نماز ضحیٰ کی آٹھ رکعتیں پڑھا کرتیں، پھر کہتیں: اگر میری ماں اور باپ جی اٹھیں تو بھی میں ان رکعتوں کو نہ چھوڑوں۔