حدیث نمبر: 300
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ بِالنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ ، فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالسَّقِيمَ وَالْكَبِيرَ ، وَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِنَفْسِهِ فَلْيُطَوِّلْ مَا شَاءَ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھائے تو چاہئے کہ تخفیف کرے، کیونکہ جماعت میں بیمار اور ضعیف اور بوڑھے بھی ہوتے ہیں، اور جب اکیلے پڑھے تو جتنا چاہے طول کرے۔“
حدیث نمبر: 301
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " قُمْتُ وَرَاءَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي صَلَاةٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ ، وَلَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ غَيْرِي فَخَالَفَ عَبْدُ اللَّهِ بِيَدِهِ فَجَعَلَنِي حِذَاءَهُ "
علامہ وحید الزماں
حضرت نافع سے روایت ہے کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ساتھ نماز کو کھڑا ہوا، میرے سوا اور کوئی نہ تھا تو پیچھے سے پکڑ کر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے مجھے اپنی داہنی طرف برابر کھڑا کیا۔
حدیث نمبر: 302
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ " رَجُلًا كَانَ يَؤُمُّ النَّاسَ بِالْعَقِيقِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَنَهَاهُ " . ¤ قَالَ مَالِك : وَإِنَّمَا نَهَاهُ لِأَنَّهُ كَانَ لَا يُعْرَفُ أَبُوهُ
علامہ وحید الزماں
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ایک شخص لوگوں کی امامت کیا کرتا تھا عقیق (ایک جگہ ہے مدینہ میں) میں، تو حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اس کو امامت سے منع کروا بھیجا۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: منع کروا بھیجا اس کو امامت سے اس لیے کہ اس کا باپ معلوم نہ ہوتا تھا۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: منع کروا بھیجا اس کو امامت سے اس لیے کہ اس کا باپ معلوم نہ ہوتا تھا۔