حدیث نمبر: 266
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى ، فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ صَلَّى رَكْعَةً وَاحِدَةً تُوتِرُ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعتیں ہیں، سو جب صبح ہونے کا ڈر ہو تو ایک رکعت پڑھ لے، جو اس کی نماز کو طاق بنادے۔“
حدیث نمبر: 267
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي كِنَانَةَ يُدْعَى الْمُخْدَجِيّ ، سَمِعَ رَجُلًا بِالشَّامِ يُكَنَّى أَبَا مُحَمَّدٍ يَقُولُ : إِنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ . فَقَالَ الْمُخْدَجِيُّ : فَرُحْتُ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَاعْتَرَضْتُ لَهُ وَهُوَ رَائِحٌ إِلَى الْمَسْجِدِ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ ، فَقَالَ عُبَادَةُ : كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " خَمْسُ صَلَوَاتٍ كَتَبَهُنَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى الْعِبَادِ ، فَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ لَمْ يُضَيِّعْ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ ، كَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ ، فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ ، وَإِنْ شَاءَ أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ "
علامہ وحید الزماں
حضرت عبداللہ بن محیریز سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بنی کنانہ سے جس کو مخدجی کہتے تھے، اس نے شام کے ایک شخص سے سنا جسکی کنیت ابومحمد ہے (انصاری صحابی ہیں) کہتے تھے کہ وتر واجب ہے۔ مخدجی نے کہا کہ میں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا اور ابومحمد کے قول کو نقل کیا، انہوں نے کہا کہ ابومحمد نے جھوٹ کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، فرماتے تھے: ”اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، جو شخص ان کو پڑھے گا اور ان کو ہلکا جان کر نہ چھوڑے گا، تو اللہ عز و جل نے اس کے لیئے یہ عہد کر رکھا ہے کہ اس شخص کو جنت میں داخل کرے گا، اور جو شخص ان کو چھوڑ دے گا تو اللہ کے پاس اس کا کچھ عہد نہیں ہے، چاہے اس کو عذاب کرے چاہے جنت میں پہنچا دے۔“
حدیث نمبر: 268
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ ، قَالَ سَعِيدٌ : فَلَمَّا خَشِيتُ الصُّبْحَ نَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ ، فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : أَيْنَ كُنْتَ ؟ فَقُلْتُ : لَهُ خَشِيتُ الصُّبْحَ فَنَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : أَلَيْسَ لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ ؟ فَقُلْتُ : بَلَى وَاللَّهِ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُوتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ "
علامہ وحید الزماں
حضرت سعید بن یسار سے روایت ہے کہ میں رات کو سفر میں مکہ کی راہ میں سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ساتھ تھا، سعید کہتے ہیں کہ جب مجھے صبح کا ڈر ہوا تو میں نے اُونٹ سے اتر کر وتر پڑھا، پھر ان کو آگے بڑھ کر پا لیا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے مجھ سے پوچھا کہ تو کہاں تھا؟ میں نے کہا کہ مجھے صبح ہونے کا اندیشہ ہوا اس لئے میں نے اتر کر وتر پڑھا، تو سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا کہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نہیں کرتا؟ میں نے کہا کہ واہ! کیوں نہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو وتر اُونٹ پر پڑھ لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 269
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ قَالَ : " كَانَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ فِرَاشَهُ أَوْتَرَ ، وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يُوتِرُ آخِرَ اللَّيْلِ " . قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ : فَأَمَّا أَنَا فَإِذَا جِئْتُ فِرَاشِي أَوْتَرْتُ
علامہ وحید الزماں
حضرت سعید بن مسیّب سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب اپنے بستر پر سونے کو آتے تو وتر پڑھ لیتے، اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ آخر رات میں تہجد کے بعد وتر پڑھتے تھے، اور حضرت سعید بن مسیّب نے کہا کہ میں تو جب اپنے بچھونے پر سونے کو آتا ہوں تو وتر پڑھ لیتا ہوں۔
حدیث نمبر: 270
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنِ الْوِتْرِ أَوَاجِبٌ هُوَ ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : " قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَوْتَرَ الْمُسْلِمُونَ " ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يُرَدِّدُ عَلَيْهِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَقُولُ : أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَوْتَرَ الْمُسْلِمُونَ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو یہ بات پہنچی کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے پوچھا کہ کیا وتر واجب ہے؟ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان وتر ادا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 271
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَتْ تَقُولُ : " مَنْ خَشِيَ أَنْ يَنَامَ حَتَّى يُصْبِحَ ، فَلْيُوتِرْ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ ، وَمَنْ رَجَا أَنْ يَسْتَيْقِظَ آخِرَ اللَّيْلِ ، فَلْيُؤَخِّرْ وِتْرَهُ "
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو یہ بات پہنچی کہ اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی تھیں کہ جس شخص کو خوف ہو کہ اس کی آنکھ صبح تک نہیں کھلے گی تو وہ سونے سے پہلے وتر پڑھ لے، اور جو آخر شب میں جاگنے کی امید رکھے تو وہ وتر میں دیر کرے۔
حدیث نمبر: 272
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِمَكَّةَ وَالسَّمَاءُ مُغِيمَةٌ فَخَشِيَ عَبْدُ اللَّهِ الصُّبْحَ فَأَوْتَرَ بِوَاحِدَةٍ ، ثُمَّ انْكَشَفَ الْغَيْمُ فَرَأَى أَنَّ عَلَيْهِ لَيْلًا ، فَشَفَعَ بِوَاحِدَةٍ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ، فَلَمَّا خَشِيَ الصُّبْحَ أَوْتَرَ بِوَاحِدَةٍ "
علامہ وحید الزماں
حضرت نافع سے روایت ہے کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ساتھ مکہ کے راستہ میں تھا اور آسمان پر اَبر چھایا ہوا تھا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما صبح ہو جانے سے ڈرے۔ پس انہوں نے ایک رکعت وتر کی پڑھی، پھر اَبر کھل گیا تو دیکھا کہ رات ابھی باقی ہے، پس انہوں نے ایک رکعت اور پڑھ کر اس رکعت کو دوگانہ کیا، پھر اس کے بعد دو دو رکعتیں پڑھیں، پھر جب خوف ہوا صبح کا تب ایک رکعت وتر پڑھی۔
حدیث نمبر: 273
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، " كَانَ يُسَلِّمُ بَيْنَ الرَّكْعَتَيْنِ وَالرَّكْعَةِ فِي الْوِتْرِ ، حَتَّى يَأْمُرَ بِبَعْضِ حَاجَتِهِ "
علامہ وحید الزماں
حضرت نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما وتر کی دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر لیتے تھے، اور کچھ کام ہوتا تو ان کو (یعنی نافع کو) کہہ دیتے تھے پھر ایک رکعت وتر پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 274
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، " كَانَ يُوتِرُ بَعْدَ الْعَتَمَةِ بِوَاحِدَةٍ " . ¤ قَالَ مَالِك : وَلَيْسَ عَلَى هَذَا الْعَمَلُ عِنْدَنَا وَلَكِنْ أَدْنَى الْوِتْرِ ثَلَاثٌ
علامہ وحید الزماں
ابنِ شہاب سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ عشاء کی نماز کے بعد ایک رکعت وتر پڑھتے تھے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارا عمل اس پر نہیں ہے، بلکہ کم سے کم وتر کی تین رکعتیں ہیں۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارا عمل اس پر نہیں ہے، بلکہ کم سے کم وتر کی تین رکعتیں ہیں۔
حدیث نمبر: 275
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ : " صَلَاةُ الْمَغْرِبِ وِتْرُ صَلَاةِ النَّهَارِ " . قَالَ مَالِك : مَنْ أَوْتَرَ أَوَّلَ اللَّيْلِ ثُمَّ نَامَ ثُمَّ قَامَ فَبَدَا لَهُ أَنْ يُصَلِّيَ ، فَلْيُصَلِّ مَثْنَى مَثْنَى فَهُوَ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جو شخص وتر پڑھ لے اوّل شب میں پھر سو کر اُٹھے اور نماز نفل پڑھنا چاہے تو دو دو رکعتیں مجھے پڑھنا پسند ہے۔