حدیث نمبر: 254
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ رَجُلٍ عِنْدَهُ رِضًا أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنَ امْرِئٍ تَكُونُ لَهُ صَلَاةٌ بِلَيْلٍ يَغْلِبُهُ عَلَيْهَا نَوْمٌ ، إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَجْرَ صَلَاتِهِ وَكَانَ نَوْمُهُ عَلَيْهِ صَدَقَةً "
علامہ وحید الزماں
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی آدمی ایسا نہیں ہے جو ہمیشہ ہر رات کو نماز پڑھتا ہو پھر (کسی دن) اُس پر نیند غالب آجائے، مگر یہ کہ اللہ رب العزت اس کے لیے نماز کا ثواب لکھ دیتا ہے اور سونا اس کے لیے صدقہ ہو گا۔“
حدیث نمبر: 255
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ : " كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَايَ فِي قِبْلَتِهِ فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ فَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا " . قَالَتْ : " وَالْبُيُوتُ يَوْمَئِذٍ لَيْسَ فِيهَا مَصَابِيحُ "
علامہ وحید الزماں
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سوتی تھی اور میرے پاؤں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوتے تھے، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو دبا دیتے تھے، سو میں اپنے پاؤں کو سمیٹ لیتی تھی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوجاتے تھے تو میں اپنے پاؤں کو پھیلالیتی تھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ اُن دنوں گھروں میں چراغ نہ ہوتے تھے۔
حدیث نمبر: 256
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ ، فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ لَا يَدْرِي لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ ، فَيَسُبَّ نَفْسَهُ "
علامہ وحید الزماں
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز میں اونگھنے لگے تو سوجائے یہاں تک کہ نیند بھر جائے، کیونکہ اگر نیند میں نماز پڑھے گا تو شاید وہ استغفار کرنا چاہے اور (نیند کے غلبہ کی وجہ سے) اپنے آپ کو ہی بُرا بولنے لگے۔“
حدیث نمبر: 257
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ امْرَأَةً مِنَ اللَّيْلِ تُصَلِّي ، فَقَالَ : " مَنْ هَذِهِ ؟ " فَقِيلَ لَهُ : هَذِهِ الْحَوْلَاءُ بِنْتُ تُوَيْتٍ لَا تَنَامُ اللَّيْلَ ، فَكَرِهَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى عُرِفَتِ الْكَرَاهِيَةُ فِي وَجْهِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا اكْلَفُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا لَكُمْ بِهِ طَاقَةٌ "
علامہ وحید الزماں
اسماعیل بن حکیم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات پہنچی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کا ذکر سنا جو رات بھر نماز پڑھا کرتی تھی، تو پوچھا کہ: ”کون ہے یہ عورت؟“ لوگوں نے کہا: یہ تویت کی بیٹی حولاء ہے جو رات کو نہیں سوتی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ امر بُرا معلوم ہوا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے ناراضگی ظاہر ہونے لگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نہیں بیزار ہوتا (ثواب دینے سے) یہاں تک کہ تم بیزار ہو جاؤ (عبادت کرکر کے) سو اُتنا عمل کرو جتنے کی طاقت رکھو۔“
حدیث نمبر: 258
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ أَيْقَظَ أَهْلَهُ لِلصَّلَاةِ يَقُولُ لَهُمْ : " الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ ، ثُمَّ يَتْلُو هَذِهِ الْآيَةَ وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا لا نَسْأَلُكَ رِزْقًا نَحْنُ نَرْزُقُكَ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَى سورة طه آية 132 "
علامہ وحید الزماں
حضرت اسلم سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ رات کو نماز پڑھتے جتنا اللہ کو منظور ہوتا، پھر جب اخیر رات ہوتی تو اپنے گھر والوں کو نماز کے لیے جگاتے اور اُن سے کہتے کہ نماز نماز! پھر اس آیت کو پڑھتے: ”اور حکم کر اپنے گھر والوں کو نماز کا اور صبر کر اس لیے کہ ہم نہیں مانگتے تجھ سے روٹی بلکہ ہم تجھ کو کھلاتے ہیں اور عاقبت کی بہتری تو پرہیزگاروں کے لیے ہے۔“
حدیث نمبر: 259
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، كَانَ يَقُولُ : " يُكْرَهُ النَّوْمُ قَبْلَ الْعِشَاءِ وَالْحَدِيثُ بَعْدَهَا "
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ حضرت سعید بن مسیّب رحمہ اللہ کہتے تھے کہ عشاء کی نماز سے پہلے سونا اور عشاء کی نماز کے بعد بات کرنا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 260
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ : " صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى يُسَلِّمُ مِنْ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ " . قَالَ مَالِك : وَهُوَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے تھے کہ دن اور رات کی نفلی نماز دو دو رکعتیں ہیں۔ ہر دو رکعتوں کے بعد سلام پھیرے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارے نزدیک یہی حکم ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارے نزدیک یہی حکم ہے۔