کتب حدیث ›
موطا امام مالك رواية يحييٰ › ابواب
› باب: سورۂ فاتحہ امام کے پیچھے سری نماز میں پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 186
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِ أُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ هِيَ خِدَاجٌ هِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ " . قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ إِنِّي أَحْيَانًا أَكُونُ وَرَاءَ الْإِمَامِ ، قَالَ: فَغَمَزَ ذِرَاعِي ، ثُمَّ قَالَ: اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ يَا فَارِسِيُّ . فَإِنِّي فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: " قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ ، فَنِصْفُهَا لِي وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ " قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَءُوا ، يَقُولُ الْعَبْدُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 ، يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: " حَمِدَنِي عَبْدِي " ، وَيَقُولُ الْعَبْدُ: الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 3 ، يَقُولُ اللَّهُ: " أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي " ، وَيَقُولُ الْعَبْدُ: مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4 ، يَقُولُ اللَّهُ: " مَجَّدَنِي عَبْدِي " ، يَقُولُ الْعَبْدُ: إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ سورة الفاتحة آية 5 ، " فَهَذِهِ الْآيَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ " ، يَقُولُ الْعَبْدُ: اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ { 6 } صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 6-7 ، " فَهَؤُلَاءِ لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”جس شخص نے نماز پڑھی اور نہ پڑھی اس میں سورۂ فاتحہ، تو نماز اس کی ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے، ہرگز تمام نہیں ہے۔“ ابوسائب نے کہا: اے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ! کبھی میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں، تو دبا دیا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے میرا بازو اور کہا: پڑھ لے اپنے دل میں اے فارس کے رہنے والے! کیونکہ میں نے سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، فرماتے تھے: فرمایا اللہ تعالیٰ نے: ”بٹ گئی نماز میرے اور میرے بندے کے بیچ میں آدھوں آدھ، آدھی میری اور آدھی اس کی، اور جو بندہ میرا مانگے اس کو دوں گا۔“ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”پڑھو، بندہ کہتا ہے: تعریف اللہ کو ہے جو صاحب ہے سارے جہان کا، پروردگار کہتا ہے: ”میری تعریف کی میرے بندے نے۔“ بندہ کہتا ہے: بڑی رحمت کرنے والامہربان، پروردگار کہتا ہے: ”خوبی بیان کی میرے بندے نے۔“ بندہ کہتا ہے: مالک بدلے کے دن کا، پروردگار کہتا ہے: ”بڑائی کی میری میرے بندے نے۔“ بندہ کہتا ہے: خاص تجھ کو پوجتے ہیں ہم اور تجھی سے مدد چاہتے ہیں ہم، ”تو یہ آیت میرے اور میرے بندے کے بیچ میں ہے“ (یعنی پروردگار کی عظمت ہے اور بندے کی طرف اقرار ہے بندگی کا)۔ بندہ کہتا ہے: دکھا ہم کو سیدھی راہ، اُن لوگوں کی راہ جن پر تو نے اپناکرم کیا، نہ دشمنوں کی اور گمراہوں کی، ”تو یہ آیتیں بندہ کے لیے ہیں اور میرا بندہ جو مانگے سو دوں۔“
حدیث نمبر: 187
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ " كَانَ يَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ فِيمَا لَا يَجْهَرُ فِيهِ الْإِمَامُ بِالْقِرَاءَةِ "
علامہ وحید الزماں
حضرت عروہ بن زبیر سورۂ فاتحہ پڑھتے تھے امام کے پیچھے سری نماز میں۔
حدیث نمبر: 188
مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَعَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ كَانَ يَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ فِيمَا لَا يَجْهَرُ فِيهِ الْإِمَامُ بِالْقِرَاءَةِ
علامہ وحید الزماں
ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بےشک قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق امام کے پیچھے اس نماز میں قرأت کرتے تھے جس میں امام بلند آواز سے قرأت نہیں کرتا تھا۔
حدیث نمبر: 189
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ " كَانَ يَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ فِيمَا لَا يَجْهَرُ فِيهِ بِالْقِرَاءَةِ " . ¤ قَالَ مَالِك : وَذَلِكَ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي ذَلِكَ
علامہ وحید الزماں
حضرت نافع بن جبیر امام کے پیچھے سری نماز میں سورۂ فاتحہ پڑھتے تھے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھے یہ اثر بہت پسند ہے اُن روایتوں میں جو میں نے اس باب میں سنیں۔
امام مالک رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھے یہ اثر بہت پسند ہے اُن روایتوں میں جو میں نے اس باب میں سنیں۔