کتب حدیثموطا امام مالك رواية يحييٰابوابباب: جو کوئی سو کر نماز کے لیے اٹھے اس کے وضو کا بیان
حدیث نمبر: 36
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ ، فَلْيَغْسِلْ يَدَهُ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهَا فِي وَضُوئِهِ ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی تم میں سے سو کر اٹھے تو پہلے اپنے ہاتھ دھو کر پانی میں ہاتھ ڈالے، اس لیے کہ معلوم نہیں کہاں رہی ہتھیلی اس کی۔“
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الطهارة / حدیث: 36
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 162، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 278، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1061، 1062، 1063، 1064، 1065، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1، 161، 440، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 1، 152، وأبو داود فى «سننه» برقم: 103، بدون ترقيم، 105، والترمذي فى «جامعه» برقم: 24، والدارمي فى «مسنده» برقم: 793، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 393، 394، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 201، 202، 203، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7402، 7556، والحميدي فى «مسنده» برقم: 981، 982، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5863، 5961، شركة الحروف نمبر: 33، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 9»
حدیث نمبر: 37
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ : " إِذَا نَامَ أَحَدُكُمْ مُضْطَجِعًا فَلْيَتَوَضَّأْ "
علامہ وحید الزماں
حضرت زید بن اسلم سے روایت ہے کہ کہا سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے: جو شخص تم میں سے سو جائے لیٹ کر تو وضو کرے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الطهارة / حدیث: 37
درجۂ حدیث محدثین: موقوف ضعيف
تخریج حدیث «موقوف ضعيف،وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 37، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 586، شركة الحروف نمبر: 34، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 10» شیخ سلیم ہلالی اور شیخ احمد علی سلیمان نے اس روایت کو ضعیف کہا ہے ، کیونکہ اس میں انقطاع ہے اور زید بن اسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پایا ہی نہیں ہے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ اور بوصیری رحمہ اللہ نے اسے مرسل قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 38
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، " أَنَّ تَفْسِيرَ هَذِهِ الْآيَةِ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ سورة المائدة آية 6 : أَنَّ ذَلِكَ إِذَا قُمْتُمْ مِنَ الْمَضَاجِعِ ، يَعْنِي النَّوْمَ "
علامہ وحید الزماں
حضرت زید بن اسلم نے فرمایا کہ جو اللہ جل جلالہُ نے فرمایا کہ ”جب اٹھو تم نماز کے لیے تو دھوؤ منہ اپنا، اور ہاتھ اپنے کہنیوں تک، اور مسح کرو سروں پر، اور دھوؤ پاؤں اپنے ٹخنوں تک۔“ اس سے یہ غرض ہے کہ جب اٹھو نماز کے لیے سو کر۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الطهارة / حدیث: 38
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع صحيح
تخریج حدیث «مقطوع صحيح، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 38، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 578، والدارقطني فى «سننه» برقم: 90، 91، شركة الحروف نمبر: 35، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 10ب» شیخ سلیم ہلالی اور شیخ احمد علی سلیمان نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 38B
قَالَ يَحْيَى : قَالَ مَالِك : الْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّهُ لَا يَتَوَضَّأُ مِنْ رُعَافٍ ، وَلَا مِنْ دَمٍ ، وَلَا مِنْ قَيْحٍ يَسِيلُ مِنَ الْجَسَدِ ، وَلَا يَتَوَضَّأُ إِلَّا مِنْ حَدَثٍ يَخْرُجُ مِنْ ذَكَرٍ ، أَوْ دُبُرٍ أَوْ نَوْمٍ
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک نکسیر پھوٹنے یا خون نکلنے یا پیپ بہنے سے وضو لازم نہیں آتا، بلکہ وضو نہ کرے، مگر اس گندگی سے جو دبر یا ذکر سے نکلے یا سو جائے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الطهارة / حدیث: 38B
تخریج حدیث «شركة الحروف نمبر: 35، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 11»
حدیث نمبر: 39
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ " كَانَ يَنَامُ جَالِسًا ، ثُمَّ يُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ بیٹھے بٹھائے سو جاتے تھے، پھر نماز پڑھتے تھے اور وضو نہیں کرتے تھے۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الطهارة / حدیث: 39
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
تخریج حدیث «موقوف صحيح، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 39، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 599، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 484، 485، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 1412، شركة الحروف نمبر: 36، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 11ب» شیخ سلیم ہلالی اور شیخ احمد علی سلیمان نے کہا ہے کہ یہ روایت صحیح ہے۔