موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے بیان میں
بَابُ التَّرْغِيبِ فِي الْجِهَادِ باب: جہاد کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 999
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَغَّبَ فِي الْجِهَادِ، وَذَكَرَ الْجَنَّةَ " وَرَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يَأْكُلُ تَمَرَاتٍ فِي يَدِهِ، فَقَالَ : إِنِّي لَحَرِيصٌ عَلَى الدُّنْيَا إِنْ جَلَسْتُ حَتَّى أَفْرُغَ مِنْهُنَّ، فَرَمَى مَا فِي يَدِهِ، فَحَمَلَ بِسَيْفِهِ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ علامہ وحید الزماں
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے رغبت دلائی جہاد میں (بدر کے روز)، اور بیان کیا جنت کا حال، اتنے میں ایک شخص انصاری (وہی سیدنا عمیر بن حمام رضی اللہ عنہ) کهجوریں ہاتھ میں لیے ہوئے کھا رہا تھا۔ وہ بولا: مجھے بڑی حرص ہے دنیا کی، اگر میں بیٹھا رہوں اس انتظار میں کہ کھجوریں کھا لوں، پھر کھجوریں پھینک دیں اور تلوار اٹھا کر لڑائی شروع کی اور شہید ہوا۔