موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے بیان میں
بَابُ التَّرْغِيبِ فِي الْجِهَادِ باب: جہاد کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 997
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَحْبَبْتُ أَنْ لَا أَتَخَلَّفَ عَنْ سَرِيَّةٍ، تَخْرُجُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَكِنِّي لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ، وَلَا يَجِدُونَ مَا يَتَحَمَّلُونَ عَلَيْهِ، فَيَخْرُجُونَ وَيَشُقُّ عَلَيْهِمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا بَعْدِي، فَوَدِدْتُ أَنِّي أُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأُقْتَلُ، ثُمَّ أُحْيَا، فَأُقْتَلُ، ثُمَّ أُحْيَا، فَأُقْتَلُ " علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے: ”اگر میری امت پر شاق نہ ہوتا تو میں کسی لشکر کا جو الله کی راہ میں نکلتا ہے ساتھ نہ چھوڑتا۔ مگر نہ میرے پاس اس قدر سواریاں ہیں کہ سب لوگوں کو ان پر سوار کروں، نہ ان کے پاس اتنی سواریاں ہیں کہ وہ سب سوار ہو کر نکلیں، اگر میں اکیلا جاؤں تو ان کو میرا چھوڑنا شاق ہوتا ہے۔ میں تو یہ چاہتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں لڑوں اور مارا جاؤں، پھر جِلایا جاؤں، پھر مارا جاؤں، پھر جِلایا جاؤں، پھر مارا جاؤں۔“