حدیث نمبر: 964
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قَالَ : كَتَبَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَذْكُرُ لَهُ جُمُوعًا مِنْ الرُّومِ، وَمَا يَتَخَوَّفُ مِنْهُمْ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : " أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّهُ مَهْمَا يَنْزِلْ بِعَبْدٍ مُؤْمِنٍ مِنْ مُنْزَلِ شِدَّةٍ، يَجْعَلِ اللَّهُ بَعْدَهُ فَرَجًا، وَإِنَّهُ لَنْ يَغْلِبَ عُسْرٌ يُسْرَيْنِ، وَأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ فِي كِتَابِهِ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ سورة آل عمران آية 200
علامہ وحید الزماں

حضرت زید بن اسلم سے روایت ہے کہ سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو روم کے لشکروں کا اور اپنے خوف کا حال لکھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب لکھا کہ: بعد حمد و نعت کے معلوم ہو کہ بندۂ مؤمن پر جب کوئی سختی اُترتی ہے تو اس کے بعد اللہ پاک خوشی دیتا ہے، اور ایک سختی دو آسانیوں پر غالب نہیں ہو سکتی، اور بےشک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اپنی کتاب میں: ”اے ایمان والو! صبر کرو مصیبتوں پر، اور صبر کرو کفار کے مقابلے میں، اور قائم رہو جہاد پر، اور ڈرو اللہ سے، شاید کہ تم نجات پاؤ۔“

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الجهاد / حدیث: 964
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
تخریج حدیث «موقوف صحيح، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19834، 34532، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 3195، والبيهقي فى «شعب الايمان» برقم: 10010، فواد عبدالباقي نمبر: 21 - كِتَابُ الْجِهَادِ-ح: 6»