موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الحج— کتاب: حج کے بیان میں
بَابُ صِيَامِ التَّمَتُّعِ باب: جو شخص تمتع کرے اس کے روزوں کا بیان
حدیث نمبر: 957
قَالَ مَالِكٌ : فِي الصَّرُورَةِ مِنَ النِّسَاءِ الَّتِي لَمْ تَحُجَّ قَطُّ : إِنَّهَا، إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا ذُو مَحْرَمٍ يَخْرُجُ مَعَهَا، أَوْ كَانَ لَهَا، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَخْرُجَ مَعَهَا : أَنَّهَا لَا تَتْرُكُ فَرِيضَةَ اللّٰهِ عَلَيْهَا فِي الْحَجِّ. لِتَخْرُجْ فِي جَمَاعَةِ النِّسَاءِ.علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جن عورتوں کے خاوند نہیں ہیں اور انہوں نے حج نہیں کیا، اگر ان کا کوئی محرم نہ ہو یا ہو لیکن ساتھ نہ جا سکے، تو فرض حج کو ترک نہ کرے بلکہ عورتوں کے ساتھ حج کو جائے۔
حدَّثَنِي حدَّثَنِي يَحيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقَُولُ : " الصِّيَامُ لِمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلى الحْجّ، لِمْن لَمْ يَجِدْ هَدْيًا، مَا بَيْنَ أَنْ يُهِلَّ بِالْحَجِّ إِلى يَوْمِ عَرفَة، فإنْ لَمْ يَصُمْ صَامَ أَيَّامَ مِنًى " علامہ وحید الزماں
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ کہتی تھیں: روزہ اس شخص کے اوپر ہے جو تمتع کرے، یعنی عمرہ کر کے حج کرے اور ہدی نہ پائے، حج کے احرام سے لے کر عرفے تک روزے رکھے، اگر ان دنوں میں نہ رکھے تو منیٰ کے دنوں میں رکھے۔