موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الحج— کتاب: حج کے بیان میں
بَابُ جَامِعِ الْحَجِّ باب: حج کی مختلف احادیث کا بیان
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ، وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ، فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْتُلُوهُ " .¤ قَالَ مَالِك : وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ مُحْرِمًا وَاللَّهُ أَعْلَمُسیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے مکے میں جس سال مکہ فتح ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر خود تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اُتارا تو ایک شخص آیا اور بولا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ابن خطل (ایک کافر تھا جس کا نام عبدالعزیٰ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خون مباح کر دیا تھا) کعبے کے پردے پکڑے ہوئے لٹک رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو مار ڈالو۔“
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن احرام نہیں باندھے تھے۔