موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الحج— کتاب: حج کے بیان میں
بَابُ فِدْيَةِ مَنْ أَصَابَ شَيْئًا مِنَ الْجَرَادِ وَهُوَ مُحْرِمٌ باب: احرام کی حالت میں اگر ٹڈی مارے تو اس کی جزاء کا بیان
حدیث نمبر: 939
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَسَأَلَهُ عَنْ جَرَادَاتٍ قَتَلَهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَقَالَ عُمَرُ، لِكَعْبٍ : تَعَالَ حَتَّى نَحْكُمَ، فَقَالَ كَعْبٌ : دِرْهَمٌ، فَقَالَ عُمَرُ : " إِنَّكَ لَتَجِدُ الدَّرَاهِمَ لَتَمْرَةٌ خَيْرٌ مِنْ جَرَادَةٍ " علامہ وحید الزماں
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس اور پوچھا آپ سے: میں نے ایک ٹڈی مار ڈالی حالتِ احرام میں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: آؤ ہم تم مل کر فیصلہ کریں۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک درہم لازم ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تیرے پاس بہت دراہم ہیں، میرے نزدیک ایک کھجور بہتر ہے ایک ٹڈی سے۔