موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الحج— کتاب: حج کے بیان میں
بَابُ إِفَاضَةِ الْحَائِضِ باب: حائضہ کے طواف زیارت کا بیان
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ بِنْتَ مِلْحَانَ اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ حَاضَتْ أَوْ وَلَدَتْ بَعْدَمَا أَفَاضَتْ يَوْمَ النَّحْرِ، فَأَذِنَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَتْ .حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ سیدہ اُم سلیم رضی اللہ عنہا نے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور ان کو حیض آ گیا تھا، یا زچگی ہوئی تھی، بعد طوافِ افاضہ کے یوم النحر کو، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دی اور وہ چلی گئیں۔
قَالَ مَالِك : وَالْمَرْأَةُ تَحِيضُ بِمِنًى تُقِيمُ حَتَّى تَطُوفَ بِالْبَيْتِ لَا بُدَّ لَهَا مِنْ ذَلِكَ، وَإِنْ كَانَتْ قَدْ أَفَاضَتْ، فَحَاضَتْ بَعْدَ الْإِفَاضَةِ، فَلْتَنْصَرِفْ إِلَى بَلَدِهَا، فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنَا فِي ذَلِكَ رُخْصَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَائِضِ .امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جس عورت کو حیض آجائے منیٰ میں تو وہ ٹھہری رہے یہاں تک کہ وہ طوافِ افاضہ کرے، اور اگر طوافِ افاضہ کے بعد اس کو حیض آیا تو اپنے شہر کو چلی جائے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم کو رخصت پہنچی ہے حائضہ کے واسطے
قَالَ : وَإِنْ حَاضَتِ الْمَرْأَةُ بِمِنًى قَبْلَ أَنْ تُفِيضَ، فَإِنَّ كَرِيَّهَا يُحْبَسُ عَلَيْهَا أَكْثَرَ مِمَّا يَحْبِسُ النِّسَاءَ الدَّمُاور اگر حیض آیا طوافِ افاضہ سے پہلے، پھر خون بند نہ ہوا تو اکثر مدت لگا لیں گے۔