موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الحج— کتاب: حج کے بیان میں
بَابُ الرُّخْصَةِ فِي رَمْيِ الْجِمَارِ باب: ر می جمار میں رخصت کا بیان
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ ابْنَةَ أَخٍ لِصَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، نُفِسَتْ بِالْمُزْدَلِفَةِ، فَتَخَلَّفَتْ هِيَ وَصَفِيَّةُ حَتَّى أَتَتَا مِنًى بَعْدَ أَنْ غَرَبَتِ الشَّمْسُ مِنْ يَوْمِ النَّحْرِ، فَأَمَرَهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ " أَنْ تَرْمِيَا الْجَمْرَةَ حِينَ أَتَتَا، وَلَمْ يَرَ عَلَيْهِمَا شَيْئًا " .نافع سے روایت ہے کہ صفیہ بنت ابی عبید کی بھتیجی کو نفاس ہوا مردلفہ میں، تو وہ اور صفیہ ٹھہر گئیں یہاں تک کہ منیٰ میں جب پہنچیں آفتاب ڈوب گیا یوم النحر کو، تو حکم کیا ان دونوں کو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کنکریاں مارنے کا جب آئیں وہ منیٰ میں، اور کوئی جزاء اُن پر لازم نہ کی۔
قَالَ يَحْيَى : سُئِلَ مَالِك، عَمَّنْ نَسِيَ جَمْرَةً مِنَ الْجِمَارِ فِي بَعْضِ أَيَّامِ مِنًى حَتَّى يُمْسِيَ ؟ قَالَ : لِيَرْمِ أَيَّ سَاعَةٍ ذَكَرَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ، كَمَا يُصَلِّي الصَّلَاةَ إِذَا نَسِيَهَا، ثُمَّ ذَكَرَهَا لَيْلًا أَوْ نَهَارًا، فَإِنْ كَانَ ذَلِكَ بَعْدَ مَا صَدَرَ، وَهُوَ بِمَكَّةَ أَوْ بَعْدَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا فَعَلَيْهِ الْهَدْيُ وَاجِبٌامام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ اگر کوئی شخص بھول جائے رمی کرنا کسی جمرہ کی، کسی تاریخ میں منیٰ کے دنوں میں سے، یہاں تک کہ شام ہو جائے؟ تو جواب دیا کہ جب یاد آئے رات یا دن کو رمی کرے، جیسے نماز جو کوئی بھول جائے پھر یاد کرے رات یا دن کو تو پڑھ لے، البتہ اگر مکہ میں چلا آیا اس وقت یاد آیا، یا جب منیٰ سے نکل گیا اس وقت خیال آیا تو ہدی واجب ہوگی۔