موطا امام مالك رواية يحييٰ
— کتاب: طہارت کے بیان میں
بَابُ الْوُضُوءِ مِنْ مَسِّ الْفَرْجِ باب: شرمگاہ کو چھونے سے وضو لازم ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 92
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ : رَأَيْتُ أَبِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَغْتَسِلُ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ ، فَقُلْتُ لَهُ : يَا أَبَتِ ، أَمَا يَجْزِيكَ الْغُسْلُ مِنَ الْوُضُوءِ ، قَالَ : " بَلَى ، وَلَكِنِّي أَحْيَانًا أَمَسُّ ذَكَرِي فَأَتَوَضَّأُ " علامہ وحید الزماں
حضرت سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا اپنے باپ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو، غسل کر کے پھر وضو کرتے۔ تو پوچھا میں نے اے باپ میرے! کیا غسل کافی نہیں ہے وضو سے؟ کہا: ہاں کافی ہے، لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بعد غسل کے چھو لیتا ہوں ذَکر اپنا تو وضو کرتا ہوں۔