موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الحج— کتاب: حج کے بیان میں
بَابُ رَمْيِ الْجِمَارِ باب: کنکریاں مارنے کا بیان
حدیث نمبر: 914
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، " كَانَ يَقِفُ عِنْدَ الْجَمْرَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ وُقُوفًا طَوِيلًا، يُكَبِّرُ اللَّهَ، وَيُسَبِّحُهُ، وَيَحْمَدُهُ، وَيَدْعُو اللَّهَ، وَلَا يَقِفُ عِنْدَ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ " علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جمرۂ اولیٰ اور وسطیٰ کے پاس ٹھہرے تھے بڑی دیر تک، تکبیر کہتے اور تسبیح اور تحمید پڑھتے اور دعا مانگتے اللہ جل جلالہُ سے، اور جمرۂ عقبہ کے پاس نہ ٹھہرتے۔