موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الحج— کتاب: حج کے بیان میں
بَابُ صَلَاةِ الْمُزْدَلِفَةِ باب: مزدلفہ میں نماز کا بیان
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ : دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالشِّعْبِ، نَزَلَ فَبَالَ، فَتَوَضَّأَ، فَلَمْ يُسْبِغِ الْوُضُوءَ، فَقُلْتُ لَهُ : الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ : " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ "، فَرَكِبَ، فَلَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ نَزَلَ، فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الْعِشَاءُ، فَصَلَّاهَا، وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا سیدنا اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے عرفات سے یہاں تک کہ جب پہنچے گھاٹی میں، اُترے اور پیشاب کیا اور وضو کیا۔ لیکن پورا وضو نہ کیا، میں نے کہا: نماز یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز آگے ہے تیرے۔“ پھر سوار ہوئے، جب مزدلفہ میں آئے، اُترے اور پورا وضو کیا، پھر تکبیر ہوئی تو نماز پڑھی مغرب کی بعد اس کے۔ ہر شخص نے اپنا اونٹ اپنی جگہ میں بٹھایا، پھر تکبیر ہوئی عشاء کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی، بیچ میں ان دونوں کے کوئی نماز نہ پڑھی۔