موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب وقوت الصلاة— کتاب: اوقات نماز کے بیان میں
بَابُ وُقُوْتِ الصَّلَاةِ باب: نماز کے وقتوں کا بیان
حدیث نمبر: 9
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ ، ثُمَّ يَخْرُجُ الْإِنْسَانُ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَيَجِدُهُمْ يُصَلُّونَ الْعَصْرَ " علامہ وحید الزماں
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عصر پڑھتے تھے، پھر ہم میں سے کوئی بنی عمرو بن عوف کے محلہ میں جاتا تو ان کو عصر کی نماز میں پاتا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ ابو سمیعہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عصر پڑھتے تھے، پھر ہم میں سے کوئی بنی عمرو بن عوف کے محلہ میں جاتا تو ان کو عصر کی نماز میں پاتا۔ [موطا امام مالك: 9]
فائدہ:
یہ محلّہ مدینہ میں مسجد نبوی سے تین میل کے فاصلے پر ہے اور اس سے مراد "بستی قبا" ہی ہے جہاں بنو عمرو بن عوف آباد تھے جیسا کہ اگلی روایت میں آرہا ہے، یہ لوگ کھیتی باڑی والے تھے اور ضروری کاموں سے فارغ ہو کر نمازِ عصر ادا کرتے تھے، الغرض معلوم ہوا کہ رسول اللہ سلم نماز عصر کو اول وقت ہی میں ادا فرما لیتے تھے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کی مسجدوں میں نمازوں کے اوقات یکساں نہیں تھے کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ ان میں وسعت ہے۔
یہ محلّہ مدینہ میں مسجد نبوی سے تین میل کے فاصلے پر ہے اور اس سے مراد "بستی قبا" ہی ہے جہاں بنو عمرو بن عوف آباد تھے جیسا کہ اگلی روایت میں آرہا ہے، یہ لوگ کھیتی باڑی والے تھے اور ضروری کاموں سے فارغ ہو کر نمازِ عصر ادا کرتے تھے، الغرض معلوم ہوا کہ رسول اللہ سلم نماز عصر کو اول وقت ہی میں ادا فرما لیتے تھے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کی مسجدوں میں نمازوں کے اوقات یکساں نہیں تھے کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ ان میں وسعت ہے۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک از ابو سمیعہ محمود تبسم، حدیث/صفحہ نمبر: 9 سے ماخوذ ہے۔