حدیث نمبر: 89
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنْتُ أُمْسِكُ الْمُصْحَفَ عَلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ فَاحْتَكَكْتُ ، فَقَالَ سَعْدٌ : " لَعَلَّكَ مَسَسْتَ ذَكَرَكَ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : نَعَمْ . فَقَالَ : " قُمْ فَتَوَضَّأْ " ، فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ
علامہ وحید الزماں

سیدنا مصعب بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں کلام اللہ لیے رہتا تھا اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ پڑھتے تھے، ایک روز میں نے کھجایا تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ شاید تو نے اپنے ذکر کو چھوا، میں نے کہا: ہاں! تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اٹھ وضو کر، سو میں کھڑا ہوا اور وضو کیا، پھر آیا۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / حدیث: 89
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
تخریج حدیث «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 413، 637، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 414، 415، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 1742، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 463، 468، 469، شركة الحروف نمبر: 82، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 59» شیخ سلیم ہلالی نے کہا ہے کہ یہ روایت صحیح ہے اور امام بیہقی رحمہ اللہ نے اسے ثابت کیا ہے۔