موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الحج— کتاب: حج کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِلَاقِ باب: سر منڈانے کا بیان
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، " أَنَّهُ كَانَ يَدْخُلُ مَكَّةَ لَيْلًا وَهُوَ مُعْتَمِرٌ، فَيَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، وَيُؤَخِّرُ الْحِلَاقَ حَتَّى يُصْبِحَ، قَالَ : وَلَكِنَّهُ لَا يَعُودُ إِلَى الْبَيْتِ، فَيَطُوفُ بِهِ حَتَّى يَحْلِقَ رَأْسَهُ، قَالَ : وَرُبَّمَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَأَوْتَرَ فِيهِ وَلَا يَقْرَبُ الْبَيْتَ " .حضرت عبدالرحمٰن بن قاسم سے روایت ہے کہ ان کے باپ حضرت قاسم بن محمد مکہ میں عمرہ کا احرام باندھ کر رات کو آتے اور طواف وسعی کر کے حلق میں تاخیر کرتے صبح تک، لیکن جب تک حلق نہ کرتے بیت اللہ کا طواف نہ کرتے، اور کبھی مسجد میں آن کر وتر پڑھتے لیکن بیت اللہ کے قریب نہ جاتے۔
قَالَ مَالِك : التَّفَثُ حِلَاقُ الشَّعْرِ، وَلُبْسُ الثِّيَابِ، وَمَا يَتْبَعُ ذَلِكَ .امام مالک رحمہ اللہ نے فر مایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «﴿ثُمَّ لْيَقْضُوا تَفَثَهُمْ﴾» ”پھر چاہیے کہ نکالیں تفث اپنا۔“ تفث کہتے ہیں سر منڈانے اور کپڑے بدلنے کو اور جو اس سے متعلق ہیں۔
قَالَ يَحْيَى : سُئِلَ مَالِك عَنْ رَجُلٍ نَسِيَ الْحِلَاقَ بِمِنًى فِي الْحَجِّ، هَلْ لَهُ رُخْصَةٌ فِي أَنْ يَحْلِقَ بِمَكَّةَ ؟ قَالَ : ذَلِكَ وَاسِعٌ . وَالْحِلَاقُ بِمِنًى أَحَبُّ إِلَيَّ .امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص حلق بھول گیا حج میں، کیا وہ مکہ میں حلق کرے؟ جواب دیا: ہاں کرے، لیکن منیٰ میں حلق کرنا اچھا ہے۔
قَالَ مَالِك : الْأَمْرُ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا، أَنَّ أَحَدًا لَا يَحْلِقُ رَأْسَهُ، وَلَا يَأْخُذُ مِنْ شَعَرِهِ حَتَّى يَنْحَرَ هَدْيًا إِنْ كَانَ مَعَهُ، وَلَا يَحِلُّ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ عَلَيْهِ، حَتَّى يَحِلَّ بِمِنًى يَوْمَ النَّحْرِ، وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ : «وَلا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ» (سورة البقرة آية 196)امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ کوئی شخص سر نہ منڈائے اور بال نہ کتروائے یہاں تک کہ نحر کرے ہدی کو اگر اس کے ساتھ ہو، اور جو چیزیں احرام میں حرام تھیں ان کا استعمال نہ کرے جب تک کہ احرام نہ کھولے منیٰ میں یوم النحر کو۔ کیونکہ فرمایا اللہ تعالیٰ نے: «﴿وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ﴾» ”مت منڈواؤ سروں کو اپنے جب تک ہدی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے۔“