موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الحج— کتاب: حج کے بیان میں
بَابُ الْعَمَلِ فِي النَّحْرِ باب: نحر کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 887
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ " كَانَ يَنْحَرُ بُدْنَهُ قِيَامًا " .علامہ وحید الزماں
حضرت ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ ان کے باپ حضرت عروہ نحر کرتے تھے اپنے اونٹوں کو کھڑا کر کے۔
قَالَ مَالِك : لَا يَجُوزُ لِأَحَدٍ أَنْ يَحْلِقَ رَأْسَهُ حَتَّى يَنْحَرَ هَدْيَهُ، وَلَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَنْحَرَ قَبْلَ الْفَجْرِ يَوْمَ النَّحْرِ، وَإِنَّمَا الْعَمَلُ كُلُّهُ يَوْمَ النَّحْرِ الذَّبْحُ وَلُبْسُ الثِّيَابِ، وَإِلْقَاءُ التَّفَثِ وَالْحِلَاقُ لَا يَكُونُ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ يُفْعَلُ قَبْلَ يَوْمِ النَّحْرِعلامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ کسی کو درست نہیں ہے کہ ہدی کی نحر سے پہلے سر منڈائے، اور نہ یہ درست ہے کہ یوم النحر کے طلوع فجر سے پیشتر نحر کرے، بلکہ نحر کرنا اور کپڑے بدلنا اور میل چھڑوانا اور سر منڈانا یہ سب کام دسویں تاریخ کو چاہییں، اس سے پہلے درست نہیں ہیں۔