موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الحج— کتاب: حج کے بیان میں
بَابُ الْوُقُوفِ بِعَرَفَةَ وَالْمُزْدَلِفَةِ باب: عرفات اور مزدلفہ میں ٹھہرنے کا بیان
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " اعْلَمُوا أَنَّ عَرَفَةَ كُلَّهَا مَوْقِفٌ إِلَّا بَطْنَ عُرَنَةَ، وَأَنَّ الْمُزْدَلِفَةَ كُلَّهَا مَوْقِفٌ، إِلَّا بَطْنَ مُحَسِّرٍ " .سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے تھے: جانو تم کہ عرفات سارا ٹھہرنے کی جگہ ہے مگر بطنِ عرنہ، اور مزدلفہ سارا ٹھہرنے کی جگہ ہے مگر بطنِ محسر۔
قَالَ مَالِك : قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى :« فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ وَلا جِدَالَ فِي الْحَجِّ » (سورة البقرة آية 197 )، قَالَ : فَالرَّفَثُ إِصَابَةُ النِّسَاءِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ، قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : «أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ» (سورة البقرة آية 187)، قَالَ : وَالْفُسُوقُ الذَّبْحُ لِلْأَنْصَابِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ، قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى :« أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ » (سورة الأنعام آية 145)، قَالَ : وَالْجِدَالُ فِي الْحَجِّ أَنَّ قُرَيْشًا كَانَتْ تَقِفُ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ، بِالْمُزْدَلِفَةِ، بِقُزَحَ وَكَانَتْ الْعَرَبُ وَغَيْرُهُمْ يَقِفُونَ بِعَرَفَةَ، فَكَانُوا يَتَجَادَلُونَ، يَقُولُ هَؤُلَاءِ : نَحْنُ أَصْوَبُ، وَيَقُولُ هَؤُلَاءِ : نَحْنُ أَصْوَبُ، فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى : «لِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوهُ فَلا يُنَازِعُنَّكَ فِي الأَمْرِ وَادْعُ إِلَى رَبِّكَ إِنَّكَ لَعَلَى هُدًى مُسْتَقِيمٍ » (سورة الحج آية 67)، فَهَذَا الْجِدَالُ فِيمَا نُرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِکہا امام مالک رحمہ اللہ نے کہ فرمایا اللہ تبارک و تعالیٰ نے: «﴿فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ﴾ [البقرة: 197]» ”نہ رفث ہے، نہ فسق ہے، نہ جھگڑا ہے حج میں۔“ تو «رفث» کے معنی جماع کے ہیں، اور اللہ خوب جانتا ہے۔ فرمایا اللہ تبارک وتعالیٰ نے: «﴿أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ﴾ [البقرة: 187]» ”حلال ہے تمہارے لئے روزوں کی رات میں جماع اپنی عورتوں سے۔“ یہاں پر رفث سے جماع مراد ہے۔
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: اور فسق سے مراد ذبح کرنا ہے جانوروں کا واسطے بتوں کے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ نے: «﴿أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهِ﴾ [الأنعام: 145]» ”یا فسق یہ ہے کہ پکارا جانور پر سوا اللہ کے اور کسی کا نام۔“ اور جھگڑا یہ ہے کہ قریش مزدلفہ میں قزح کے پاس ٹھہر تے تھے، اور باقی سب عرفات میں اترتے تھے، تو دونوں فرقے آپس میں لڑتے تھے، جھگڑتے تھے، یہ کہتے تھے: ہم سیدھی راہ اور ٹھیک راستے پر ہیں۔ وہ کہتے تھے: ہم صحیح طریقے پر ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «﴿لِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوهُ، فَلَا يُنَازِعُنَّكَ فِي الْأَمْرِ وَادْعُ إِلَى رَبِّكَ إِنَّكَ لَعَلَى هُدًى مُسْتَقِيمٍ﴾ [الحج: 67]» یعنی ”ہم نے ہر گروہ کے لیے ایک طریقہ کر دیا وہ اس پر چلتے ہیں، تو نہ جھگڑیں تجھ سے دین میں، اور بلا تو اپنے پروردگار کی طرف، بے شک تو سیدھی راہ پر ہے۔“ تو حج میں جھگڑنے کے یہی معنی ہیں۔ (واللہ اعلم)، اور میں نے سنا ہے یہ اہلِ علم سے۔
سُئِلَ مَالِكٌ : هَلْ يَقِفُ الرَّجُلُ بِعَرَفَةَ، أَوْ بِالْمُزْدَلِفَةِ، أَوْ يَرْمِي الْجِمَارَ، أَوْ يَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَهُوَ غَيْرُ طَاهِرٍ؟ فَقَالَ : كُلُّ أَمْرٍ تَصْنَعُهُ الْحَائِضُ مِنْ أَمْرِ الْحَجِّ، فَالرَّجُلُ يَصْنَعُهُ وَهُوَ غَيْرُ طَاهِرٍ، ثُمَّ لَا يَكُونُ عَلَيْهِ شَيْءٌ فِي ذَلِكَ. وَالْفَضْلُ أَنْ يَكُونَ الرَّجُلُ فِي ذَلِكَ كُلِّهِ طَاهِرًا. وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَتَعَمَّدَ ذَلِكَ.امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ عرفات میں یا مزدلفہ میں کوئی آدمی بے وضو ٹھہر سکتا ہے، یا بے وضو کنکریاں مار سکتا ہے، یا بے وضو صفا اور مروہ کے درمیان میں دوڑ سکتا ہے؟ تو جواب دیا کہ: جتنے ارکان حائضہ عورت کر سکتی ہے وہ سب کام مرد بے وضو کر سکتا ہے، اور اس پر کچھ لازم نہیں آتا مگر افضل یہ ہے کہ ان سب کاموں میں با وضو رہے، اور قصداً بے وضو ہونا اچھا نہیں ہے۔
وَسُئِلَ مَالِكٌ : عَنِ الْوُقُوفِ بِعَرَفَةَ لِلرَّاكِبِ. أَيَنْزِلُ أَمْ يَقِفُ رَاكِبًا؟ فَقَالَ : بَلْ يَقِفُ رَاكِبًا. إِلَّا أَنْ يَكُونَ بِهِ أَوْ بِدَابَّتِهِ، عِلَّةٌ. فَاللّٰهُ أَعْذَرُ بِالْعُذْرِامام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ عرفات میں سوار ہو کر ٹھہرے یا اتر کر؟ بولے: سوار ہو کر، مگر جب کوئی عذر ہو اس کو یا اس کے جانور کو، تو اللہ جل جلالہُ قبول کرنے والا ہے عذر کو۔