حدیث نمبر: 864
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ سَمِعَ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَقُولُ فِي ذَلِكَ مِثْلَ قَوْلِ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ . ¤
علامہ وحید الزماں

حضرت ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے بھی ایسا ہی کہا ہے۔

قَالَ مَالِك : وَذَلِكَ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي ذَلِكَ .
علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: مجھے یہ روایت بہت پسند ہے۔

قَالَ يَحْيَى : وَسُئِلَ مَالِك، عَنْ رَجُلٍ نَسِيَ الْإِفَاضَةَ حَتَّى خَرَجَ مِنْ مَكَّةَ، وَرَجَعَ إِلَى بِلَادِهِ، فَقَالَ : أَرَى إِنْ لَمْ يَكُنْ أَصَابَ النِّسَاءَ، فَلْيَرْجِعْ، فَلْيُفِضْ، وَإِنْ كَانَ أَصَابَ النِّسَاءَ فَلْيَرْجِعْ، فَلْيُفِضْ، ثُمَّ لِيَعْتَمِرْ، وَلْيُهْدِ، وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَشْتَرِيَ هَدْيَهُ مِنْ مَكَّةَ، وَيَنْحَرَهُ بِهَا وَلَكِنْ إِنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَهُ مَعَهُ مِنْ حَيْثُ اعْتَمَرَ، فَلْيَشْتَرِهِ بِمَكَّةَ، ثُمَّ لِيُخْرِجْهُ إِلَى الْحِلِّ، فَلْيَسُقْهُ مِنْهُ إِلَى مَكَّةَ، ثُمَّ يَنْحَرُهُ بِهَا
علامہ وحید الزماں

کہا یحییٰ نے: سوال ہوا امام مالک رحمہ اللہ سے کہ ایک شخص طواف الزیارۃ بھول کر مکہ سے اپنے شہر چلا آیا؟ تو جواب دیا کہ اگر اس نے صحبت نہیں کی عورت سے تو لوٹ جائے اور طواف الزیارۃ ادا کرے، اور اگر صحبت کر چکا تو لوٹ کر طواف ادا کرے، پھر عمرہ کرے اور ہدی دے، اور یہ نہیں چاہیے کہ ہدی مکہ سے مول لے کر وہیں نحر کر دے، بلکہ اپنے ساتھ ہدی نہ لایا ہو تو مکہ سے ہدی مول لے کر حرم سے باہر جا ئے، اور وہاں سے ہانکتا ہوا اپنے ساتھ پھر مکہ میں لائے، پھر وہاں نحر کرے۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الحج / حدیث: 864
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع صحيح
تخریج حدیث «مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 9802، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 157»