موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الحج— کتاب: حج کے بیان میں
بَابُ هَدْيِ مَنْ فَاتَهُ الْحَجُّ باب: جس شخص کو حج نہ ملے اس کی ہدی کا بیان
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ هَبَّارَ بْنَ الْأَسْوَدِ جَاءَ يَوْمَ النَّحْرِ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَنْحَرُ هَدْيَهُ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَخْطَأْنَا الْعِدَّةَ كُنَّا نَرَى أَنَّ هَذَا الْيَوْمَ يَوْمُ عَرَفَةَ، فَقَالَ عُمَرُ : " اذْهَبْ إِلَى مَكَّةَ، فَطُفْ أَنْتَ وَمَنْ مَعَكَ، وَانْحَرُوا هَدْيًا إِنْ كَانَ مَعَكُمْ، ثُمَّ احْلِقُوا أَوْ قَصِّرُوا، وَارْجِعُوا فَإِذَا كَانَ عَامٌ قَابِلٌ فَحُجُّوا وَأَهْدُوا، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعَ " . ¤سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ ہبار بن اسود آئے یوم النحر کو اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نحر کر رہے تھے اپنی ہدی کا، تو کہا انہوں نے: اے امیر المؤمنین! ہم نے تاریخ کے شمار میں غلطی کی، ہم سمجھتے تھے کہ آج کا روز عرفہ کا روز ہے (یعنی آج نویں تاریخ ہے)۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مکہ کو جاؤ اور تم اور تمہارے ساتھی سب طواف کرو، اگر کوئی ہدی تمہارے ساتھ ہو تو اس کو نحر کر ڈالو، پھر حلق کرو یا قصر، اور لوٹ جاؤ اپنے وطن کو، سال آئندہ آؤ اور حج کرو اور ہدی دو، جس کو ہدی نہ ملے وہ تین روزے حج کے دنوں میں رکھے اور سات روزے جب لوٹے تب رکھے۔
قَالَ مَالِك : وَمَنْ قَرَنَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، ثُمَّ فَاتَهُ الْحَجُّ فَعَلَيْهِ أَنْ يَحُجَّ قَابِلًا، وَيَقْرُنُ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، وَيُهْدِي هَدْيَيْنِ : هَدْيًا لِقِرَانِهِ الْحَجَّ مَعَ الْعُمْرَةِ، وَهَدْيًا لِمَا فَاتَهُ مِنَ الْحَجِّامام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جس شخص نے قِران کیا، پھر اس کو حج نہ ملا تو وہ سال آئندہ بھی قران کرے، اور دو ہدی دے، ایک قران کی اور ایک حج کے فوت ہو جانے کی۔