موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الحج— کتاب: حج کے بیان میں
بَابُ وَدَاعِ الْبَيْتِ باب: خانہ کعبہ سے رخصت ہونے کا بیان
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ : " لَا يَصْدُرَنَّ أَحَدٌ مِنَ الْحَاجِّ ، حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ فَإِنَّ آخِرَ النُّسُكِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ " سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کوئی حاجی مکہ سے نہ لوٹے یہاں تک کہ طواف کر لے خانۂ کعبہ کا، کیونکہ آخری عبادت یہی طواف کرنا خانۂ کعبہ کا ہے۔
قَالَ مَالِك فِي قَوْلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : فَإِنَّ آخِرَ النُّسُكِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ ، إِنَّ ذَلِكَ فِيمَا نُرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، لِقَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ سورة الحج آية 32 وَقَالَ : ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ سورة الحج آية 33 فَمَحِلُّ الشَّعَائِرِ كُلِّهَا ، وَانْقِضَاؤُهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِامام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آخری عبادت طواف ہے خانۂ کعبہ کا، اس سے مقصود یہ ہے کہ اللہ جل جلالہُ فرماتا ہے: ”جو شخص تعظیم کرے اللہ جل جلالہُ کی نشانیوں کی تو یہ دلوں کے خوف کی وجہ سے ہے۔“ پھر فرماتا ہے: ”بازگشت ان کی خانۂ کعبہ کی طرف ہے۔“ تو تمام ارکان اور عباداتِ حج کی انتہاء خانۂ کعبہ پر ہے۔