موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الحج— کتاب: حج کے بیان میں
بَابُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ فِي الطَّوَافِ باب: دوگانہ طواف کا ادا کرنا بعد نماز صبح یا عصر کے
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَقَدْ رَأَيْتُ الْبَيْتَ يَخْلُو بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ ، وَبَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ مَا يَطُوفُ بِهِ أَحَدٌ " . قَالَ مَالِك : وَمَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ بَعْضَ أُسْبُوعِهِ ، ثُمَّ أُقِيمَتْ صَلَاةُ الصُّبْحِ أَوْ صَلَاةُ الْعَصْرِ ، فَإِنَّهُ يُصَلِّي مَعَ الْإِمَامِ ، ثُمَّ يَبْنِي عَلَى مَا طَافَ حَتَّى يُكْمِلَ سُبْعًا ، ثُمَّ لَا يُصَلِّي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَوْ تَغْرُبَ ، قَالَ : وَإِنْ أَخَّرَهُمَا حَتَّى يُصَلِّيَ الْمَغْرِبَ ، فَلَا بَأْسَ بِذَلِكَحضرت ابوزبیر مکی سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا خانۂ کعبہ کو خالی ہو جاتا طواف کرنے والوں سے، بعد نمازِ صبح اور بعد نمازِ عصر کے کوئی طواف نہ کرتا۔
امام ما لک نے فر مایا کہ جس نے طواف شروع کیا، پھر تکبیر ہوئی نمازِ صبح یا عصر کی تو وہ نماز پڑھے امام کے ساتھ، بعد نماز کے طواف پورا کرے، لیکن دوگانہ ادا نہ کرے یہاں تک کہ آفتاب نکل آئے یا ڈوب جائے، اور اگر بعد نمازِ مغرب کے پڑھے تو بھی کچھ قباحت نہیں ہے۔
قَالَ مَالِك : وَلَا بَأْسَ أَنْ يَطُوفَ الرَّجُلُ طَوَافًا وَاحِدًا بَعْدَ الصُّبْحِ وَبَعْدَ الْعَصْرِ ، لَا يَزِيدُ عَلَى سُبْعٍ وَاحِدٍ ، وَيُؤَخِّرُ الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ كَمَا صَنَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَيُؤَخِّرُهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ ، حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، فَإِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ صَلَّاهُمَا إِنْ شَاءَ . وَإِنْ شَاءَ أَخَّرَهُمَا ، حَتَّى يُصَلِّيَ الْمَغْرِبَ لَا بَأْسَ بِذَلِكَکہا امام مالک رحمہ اللہ نے: اگر کوئی شخص ایک طواف کرے بعد نماز فجر یا عصر کے اور دوگانہ کی تاخیر کرے یہاں تک کہ آفتاب نکل آئے، جیسا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کیا، یا آفتاب ڈوب جائے تو کچھ قباحت نہیں ہے، اب دوگانہ طواف آفتاب ڈوبتے ہی پڑھ لے یا بعد نمازِ مغرب کے پڑھے۔