موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب وقوت الصلاة— کتاب: اوقات نماز کے بیان میں
بَابُ وُقُوْتِ الصَّلَاةِ باب: نماز کے وقتوں کا بیان
حدیث نمبر: 8
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " أَنَا أُخْبِرُكَ صَلِّ الظُّهْرَ إِذَا كَانَ ظِلُّكَ مِثْلَكَ ، وَالْعَصْرَ إِذَا كَانَ ظِلُّكَ مِثْلَيْكَ ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ ، وَالْعِشَاءَ مَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ ثُلُثِ اللَّيْلِ ، وَصَلِّ الصُّبْحَ بِغَبَشٍ يَعْنِي الْغَلَسَ " علامہ وحید الزماں
حضرت عبداللہ بن رافع جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بی بی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے مولیٰ ہیں، انہوں نے پوچھا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نماز کا وقت، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں بتاؤں تجھ کو، نماز پڑھ ظہر کی جب سایہ تیرا تیرے برابر ہو جائے، اور عصر کی جب سایہ تیرا تجھ سے دگنا ہو، اور مغرب کی جب آفتاب ڈوب جائے، اور عشاء کی تہائی رات کی، اور صبح کی اندھیرے منہ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ ابو سمیعہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں بتاؤں تجھ کو، نماز پڑھ ظہر کی جب سایہ تیرا تیرے برابر ہو جائے، اور عصر کی جب سایہ تیرا تجھ سے دگنا ہو، اور مغرب کی جب آفتاب ڈوب جائے، اور عشاء کی تہائی رات کی، اور صبح کی اندھیرے منہ۔ [موطا امام مالك: 8]
فائدہ:
احناف ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے اس فتوے میں نماز عصر کے لیے دو مثل کا لفظ دیکھ کر بڑے خوش ہوتے اور اسے بطور دلیل پیش کرتے ہیں، حالانکہ: ➊ اس فتویٰ میں کوئی ایسا لفظ نہیں جو بتاتا ہو کہ نماز عصر کا وقت شروع ہی دو مثل سے ہوتا ہے۔
➋ اس فتویٰ میں نماز ظہر کو ایک مثل پر پڑھنے کے حکم کو پھر کیوں ترک کیا جاتا ہے؟ کیا ظہر کا وقت ایک مثل پر شروع ہونے کے لیے کوئی حنفی اسے دلیل بنائے گا؟
➌ اس فتوی میں نمازِ فجر کو اندھیرے میں پڑھنے کے حکم سے احناف کیوں اعراض کرتے ہیں؟
➍ [نسائي، حديث: 503، سند صحيح هے] میں خود حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازوں کے اوقات کو روایت کیا ہے، جس میں ہے کہ جبریل علیہ السلام نے پہلے دن ظہر کو سورج ڈھلتے ہی ادا کیا اور عصر کو ایک مثل پر پڑھا اور پھر دوسرے دن ظہر ایک مثل پر جبکہ عصر دو مثل پر ادا کی۔
احناف ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے اس فتوے میں نماز عصر کے لیے دو مثل کا لفظ دیکھ کر بڑے خوش ہوتے اور اسے بطور دلیل پیش کرتے ہیں، حالانکہ: ➊ اس فتویٰ میں کوئی ایسا لفظ نہیں جو بتاتا ہو کہ نماز عصر کا وقت شروع ہی دو مثل سے ہوتا ہے۔
➋ اس فتویٰ میں نماز ظہر کو ایک مثل پر پڑھنے کے حکم کو پھر کیوں ترک کیا جاتا ہے؟ کیا ظہر کا وقت ایک مثل پر شروع ہونے کے لیے کوئی حنفی اسے دلیل بنائے گا؟
➌ اس فتوی میں نمازِ فجر کو اندھیرے میں پڑھنے کے حکم سے احناف کیوں اعراض کرتے ہیں؟
➍ [نسائي، حديث: 503، سند صحيح هے] میں خود حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازوں کے اوقات کو روایت کیا ہے، جس میں ہے کہ جبریل علیہ السلام نے پہلے دن ظہر کو سورج ڈھلتے ہی ادا کیا اور عصر کو ایک مثل پر پڑھا اور پھر دوسرے دن ظہر ایک مثل پر جبکہ عصر دو مثل پر ادا کی۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک از ابو سمیعہ محمود تبسم، حدیث/صفحہ نمبر: 8 سے ماخوذ ہے۔