موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الحج— کتاب: حج کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ أُحْصِرَ بِغَيْرِ عَدُوٍّ باب: جو شخص سوائے دشمن کے اور کسی سبب سے رُک جائے اس کا بیان
حدیث نمبر: 799
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : " الْمُحْصَرُ بِمَرَضٍ لَا يَحِلُّ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَيَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ فَإِذَا اضْطُرَّ إِلَى لُبْسِ شَيْءٍ مِنَ الثِّيَابِ الَّتِي لَا بُدَّ لَهُ مِنْهَا ، أَوِ الدَّوَاءِ صَنَعَ ذَلِكَ وَافْتَدَى " علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: جو شخص بیماری کی وجہ سے رُک جائے تو وہ حلال نہ ہو گا یہاں تک کہ طواف کرے خانۂ کعبہ کا اور سعی کرے صفا اور مروہ کے بیچ میں۔ اگر ضرورت ہو کسی کپڑے کے پہننے کی یا دواء کی (جو احرام کی حالت میں منع ہے) تو اس کا استعمال کرے اور جزاء دے۔