موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الحج— کتاب: حج کے بیان میں
بَابُ مَا لَا يَحِلُّ لِلْمُحْرِمِ أَكْلُهُ مِنَ الصَّيْدِ باب: جس شکار کا محرم کو کھانا درست نہیں ہے اس کا بیان
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيِّ أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا وَحْشِيًّا وَهُوَ بِالْأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِي وَجْهِي ، قَالَ : " إِنَّا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ إِلَّا أَنَّا حُرُمٌ " سیدنا صعب بن جثامہ لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے تحفہ بھیجا ایک گورخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابواء یا ودّان میں تھے (دونوں مقاموں کے نام ہیں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھیر دیا۔ سیدنا صعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے کا حال دیکھا (یعنی پھیر دینے کی وجہ سے مجھ کو ملال ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے کا حال دیکھ کر دریافت کر لیا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے اس واسطے پھیر دیا کہ ہم احرام باندھے ہیں۔“