موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الحج— کتاب: حج کے بیان میں
بَابُ مَا يَجُوزُ لِلْمُحْرِمِ أَكْلُهُ مِنَ الصَّيْدِ باب: جس شکار کا محرم کو کھانا درست ہے اس کا بیان
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، أَنَّهُ مَرَّ بِهِ قَوْمٌ مُحْرِمُونَ بِالرَّبَذَةِ فَاسْتَفْتَوْهُ فِي لَحْمِ صَيْدٍ ، وَجَدُوا نَاسًا أَحِلَّةً يَأْكُلُونَهُ فَأَفْتَاهُمْ بِأَكْلِهِ ، قَالَ : ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " بِمَ أَفْتَيْتَهُمْ ؟ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : " أَفْتَيْتُهُمْ بِأَكْلِهِ " ، قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : " لَوْ أَفْتَيْتَهُمْ بِغَيْرِ ذَلِكَ لَأَوْجَعْتُكَ " حضرت سالم بن عبداللہ نے سنا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، وہ کہتے تھے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سےکہ مجھ کو ملے کچھ لوگ احرام باندھے ہوئے ربذہ میں، تو پوچھا انہوں نے شکار کے گوشت کی بابت جو حلال لوگوں کے پاس موجود ہو، وہ کھاتے ہوں اس کو؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اُن کو کھانے کی اجازت دی۔ کہا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے: جب میں آیا مدینہ کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس، میں نے اُن سے بیان کیا، انہوں نے کہا: تو نے کیا فتویٰ دیا؟ میں نے کہا: میں نے فتویٰ دیا کھانے کا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تو اور کسی بات کا فتویٰ دیتا تو میں تجھے سزا دیتا۔