موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الحج— کتاب: حج کے بیان میں
بَابُ نِكَاحِ الْمُحْرِمِ باب: محرم کے نکاح کا بیان
حدیث نمبر: 771
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ أَخِي بَنِي عَبْدِ الدَّارِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ أَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، وَأَبَانُ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْحَاجِّ ، وَهُمَا مُحْرِمَانِ إِنِّي قَدْ أَرَدْتُ أَنْ أُنْكِحَ طَلْحَةَ بْنَ عُمَرَ ، بِنْتَ شَيْبَةَ بْنِ جُبَيْرٍ وَأَرَدْتُ أَنْ تَحْضُرَ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَبَانُ ، وَقَالَ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَنْكِحِ الْمُحْرِمُ وَلَا يُنْكِحُ وَلَا يَخْطُبُ " علامہ وحید الزماں
حضرت نبیہ بن وہب سے روایت ہے کہ عمر بن عبیداللہ نے بھیجا اُن کو سیدنا ابان بن عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس، اور سیدنا ابان رضی اللہ عنہ اُن دنوں میں امیر تھے حاجیوں کے، اور دونوں احرام باندھے ہوئے تھے۔ کہلا بھیجا کہ میں چاہتا ہوں کہ نکاح کروں طلحہ بن عمر کا شیبہ بن جبیر کی بیٹی سے، سو تم بھی آؤ۔ سیدنا ابان رضی اللہ عنہ نے اس پر انکار کیا اور کہا کہ سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، فرماتے تھے: ”نہ نکاح کرے محرم اپنا اور نہ غیر کا، اور نہ پیغام بھیجے نکاح کا۔“