موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الحج— کتاب: حج کے بیان میں
بَابُ قَطْعِ التَّلْبِيَةِ باب: لبیک موقوف کرنے کا وقت
حدیث نمبر: 747
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " كَانَ يَقْطَعُ التَّلْبِيَةَ فِي الْحَجِّ إِذَا انْتَهَى إِلَى الْحَرَمِ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ يُلَبِّي حَتَّى يَغْدُوَ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ فَإِذَا غَدَا تَرَكَ التَّلْبِيَةَ وَكَانَ يَتْرُكُ التَّلْبِيَةَ فِي الْعُمْرَةِ إِذَا دَخَلَ الْحَرَمَ " علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما موقوف کرتے تھے لبیک کہنے کو حج میں جب پہنچتے حرم میں طواف اور سعی تک، پھر لبیک کہنے لگتے یہاں تک کہ صبح کو منیٰ سے چلیں عرفہ کو، سو جب عرفات کو چلتے لبیک موقوف کرتے، اور عمرہ میں موقوف کرتے لبیک کو جب داخل ہوتے حرم میں۔