موطا امام مالك رواية يحييٰ
— کتاب: طہارت کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ باب: موزوں پر مسح کا بیان
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رُقَيْشٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَتَى قُبَا فَبَالَ ثُمَّ أُتِيَ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ، وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ، وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ ثُمَّ جَاءَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى " . ¤ قَالَ يَحْيَى : وَسُئِلَ مَالِك ، عَنْ رَجُلٍ تَوَضَّأَ وُضُوءَ الصَّلَاةِ ثُمَّ لَبِسَ خُفَّيْهِ ثُمَّ بَالَ ثُمَّ نَزَعَهُمَا ثُمَّ رَدَّهُمَا فِي رِجْلَيْهِ أَيَسْتَأْنِفُ الْوُضُوءَ ؟ فَقَالَ : لِيَنْزِعْ خُفَّيْهِ وَلْيَغْسِلْ رِجْلَيْهِ ، وَإِنَّمَا يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ مَنْ أَدْخَلَ رِجْلَيْهِ فِي الْخُفَّيْنِ وَهُمَا طَاهِرَتَانِ بِطُهْرِ الْوُضُوءِ ، وَأَمَّا مَنْ أَدْخَلَ رِجْلَيْهِ فِي الْخُفَّيْنِ وَهُمَا غَيْرُ طَاهِرَتَيْنِ بِطُهْرِ الْوُضُوءِ فَلَا يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ . ¤ قَالَ : وَسُئِلَ مَالِك ، عَنْ رَجُلٍ تَوَضَّأَ وَعَلَيْهِ خُفَّاهُ فَسَهَا عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ حَتَّى جَفَّ وَضُوءُهُ وَصَلَّى ، قَالَ : لِيَمْسَحْ عَلَى خُفَّيْهِ وَلْيُعِدِ الصَّلَاةَ وَلَا يُعِيدُ الْوُضُوءَ ، وَسُئِلَ مَالِك ، عَنْ رَجُلٍ غَسَلَ قَدَمَيْهِ ثُمَّ لَبِسَ خُفَّيْهِ ثُمَّ اسْتَأْنَفَ الْوُضُوءَ ، فَقَالَ : لِيَنْزِعْ خُفَّيْهِ ثُمَّ لِيَتَوَضَّأْ وَلْيَغْسِلْ رِجْلَيْهِحضرت سعید بن عبدالرحمٰن نے دیکھا سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو، آئے وہ قبا کو تو پیشاب کیا پھر لایا گیا پانی وضو کا، تو وضو کیا، دھویا منہ کو اور دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک اور مسح کیا سر پر اور مسح کیا موزوں پر، پھر مسجد میں آکر نماز پڑھی۔
امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا اس شخص کا جس نے وضو کیا نماز کے لیے، پھر پہنا دونوں موزوں کو، پھر پیشاب کیا، پھر اتار لیے موزے پھر پہن لیے، کیا وضو پھر کرے؟ تو جواب دیا امام مالک رحمہ اللہ نے کہ موزے اتار کر وضو کرے اور پاؤں دھوئے اور موزوں پر وہی شخص مسح کرے جس نے موزوں کو پہنا تھا اور پاؤں اس کے پاک تھے وضو کی پاکی سے۔ لیکن جس نے موزوں کو اس حال میں پہنا کہ وہ پاؤں اس کے وضو کی پاکی سے پاک نہ تھے تو وہ مسح نہ کرے موزوں پر۔
امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا اس شخص کے بارے میں جس نے وضو کیا اور موزے پہنے ہوئے تھے لیکن وہ مسح موزوں کا کرنا بھول گیا، یہاں تک کہ وضو اس کا سوکھ گیا اور نماز اس نے پڑھ لی۔ تو جواب دیا کہ وہ شخص موزوں پر مسح کرے اور نماز کا اعادہ کرے، مگر وضو کا اعادہ ضروری نہیں۔
امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا اس شخص کے بارے میں جس نے پاؤں دھو کر موزے پہن لیے پھر وضو شروع کیا۔ تو جواب دیا کہ موزے اتار کر وضو کرے اور پاؤں دھوئے۔
تشریح، فوائد و مسائل
اگر کوئی شخص اعضائے وضو میں سے کسی عضو کو دھونے یا مسح کرنے میں اتنی تاخیر کر دے کہ اعضائے وضو خشک ہو جائیں تو وضو کو دوبارہ لوٹانا لازم ہے، کیونکہ اس میں «موالاة» برقرار نہیں رہتی جیسا کہ پیچھے [روايت: 22] کے فائدہ میں تفصیل گزر چکی ہے۔ بہر کیف امام مالک رحمہ اللہ نے وضو کا اعادہ نہ کرنے کا اس لیے فتویٰ دیا کہ ان کے نزدیک نسیان کی وجہ سے «موالاة» ساقط ہو جاتی ہے، باقی رہی نماز تو وہ چونکہ ایک نامکمل وضو سے ادا کی گئی اس لیے اُس کا لوٹانا لازم قرار دیا۔
فائدہ:
چونکہ اعضائے وضو کو ترتیب سے دھونا امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک بھی واجب ہے اس لیے جب تک پورا وضو تر تیب سے نہ کیا جائے گا، موزوں کو (مسح کی سہولت کے لیے) پہننا جائز ہی نہیں۔ دوسرے لفظوں میں بوقت لبس طہارت کاملہ شرط ہے، یعنی موزے پہنتے وقت یہ لازم ہے کہ پورا وضو ہو چکا ہو، احناف کے ہاں چونکہ ترتیب واجب نہیں اس لیے اُن کے نزدیک سوال میں پوچھی گئی صورت جائز ہے اور وہ کہتے ہیں کہ بوقت مسح طہارت کاملہ شرط ہے یعنی جب موزوں پر مسح کرنا ہو اس وقت یہ دیکھا جائے گا کہ اس سے پہلے پورا وضو ہو چکا تھا، خواہ موزوں کو پہنتے وقت آدھا غیر مرتب وضو ہی کیا گیا ہو۔ بہر حال سنت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں جمہور اسے نا جائز سمجھتے ہیں۔