موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الحج— کتاب: حج کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي الطِّيبِ فِي الْحَجِّ باب: حج میں خوشبو لگانے کا بیان
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، وَرَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ " سَأَلَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَخَارِجَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ بَعْدَ أَنْ رَمَى الْجَمْرَةَ وَحَلَقَ رَأْسَهُ وَقَبْلَ أَنْ يُفِيضَ عَنِ الطِّيبِ ، فَنَهَاهُ سَالِمٌ ، وَأَرْخَصَ لَهُ خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ " یحییٰ بن سعید اور عبداللہ بن ابی بکر اور ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ولید بن عبدالملک نے پوچھا سالم بن عبداللہ اور خارجہ بن زید سے کہ بعد کنکریاں مارنے کے اور سر منڈوانے کے، قبل طواف الافاضہ کے خوشبو لگانا کیسا ہے؟ تو منع کیا سالم نے اور جائز رکھا خارجہ بن زید بن ثابت نے۔
قَالَ مَالِك : لَا بَأْسَ أَنْ يَدَّهِنَ الرَّجُلُ بِدُهْنٍ لَيْسَ فِيهِ طِيبٌ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ وَقَبْلَ أَنْ يُفِيضَ مِنْ مِنًى بَعْدَ رَمْيِ الْجَمْرَةِامام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص ایسا تیل لگائے جس میں خوشبو نہ ہو قبل احرام کے، یا قبل طواف الافاضہ کے، بعد کنکریاں مارنے کے تو پھر قباحت نہیں ہے۔
قَالَ يَحْيَى ، سُئِلَ مَالِك ، عَنْ طَعَامٍ فِيهِ زَعْفَرَانٌ هَلْ يَأْكُلُهُ الْمُحْرِمُ ؟ فَقَالَ : أَمَّا مَا تَمَسُّهُ النَّارُ مِنْ ذَلِكَ فَلَا بَأْسَ بِهِ أَنْ يَأْكُلَهُ الْمُحْرِمُ ، وَأَمَّا مَا لَمْ تَمَسَّهُ النَّارُ مِنْ ذَلِكَ فَلَا يَأْكُلُهُ الْمُحْرِمُامام مالک سے سوال ہوا کہ محرم اس کھانے کو کھائے جس میں زعفران پڑی ہو؟ بولے: اگر آگ سے پکا ہو تو درست ہے، ورنہ درست نہیں۔