موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الحج— کتاب: حج کے بیان میں
بَابُ لُبْسِ الثِّيَابِ الْمُصَبَّغَةِ فِي الْإِحْرَامِ باب: احرام میں رنگین کپڑے پہننے کا بیان
حدیث نمبر: 714
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ " أَنَّهَا كَانَتْ تَلْبَسُ الثِّيَابَ الْمُعَصْفَرَاتِ الْمُشَبَّعَاتِ وَهِيَ مُحْرِمَةٌ لَيْسَ فِيهَا زَعْفَرَانٌ " علامہ وحید الزماں
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا خوب گہرے کسم کے رنگے ہوئے کپڑے پہنتی تھیں احرام میں، لیکن زعفران اس میں نہ ہوتی تھی۔
قَالَ يَحْيَى : سُئِلَ مَالِك عَنْ ثَوْبٍ مَسَّهُ طِيبٌ ، ثُمَّ ذَهَبَ مِنْهُ رِيحُ الطِّيبِ هَلْ يُحْرِمُ فِيهِ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ صِبَاغٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ أَوْ وَرْسٍعلامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ اگر کسی کپڑے میں خوشبو لگی ہو، پھر اس کی بو جاتی رہے تو احرام میں پہننا اسکا درست ہے؟ کہا: ہاں، جب رنگ اس میں باقی نہ ہو زعفران کا یا وَرس کا۔