موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الحج— کتاب: حج کے بیان میں
بَابُ مَا يُنْهَى عَنْهُ مِنْ لُبْسِ الثِّيَابِ فِي الْإِحْرَامِ باب: جن کپڑوں کا احرام میں پہننا ممنوع ہے ان کا بیان
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَلْبَسُوا الْقُمُصَ ، وَلَا الْعَمَائِمَ ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ ، وَلَا الْبَرَانِسَ ، وَلَا الْخِفَافَ إِلَّا أَحَدٌ لَا يَجِدُ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ ، وَلَا تَلْبَسُوا مِنَ الثِّيَابِ شَيْئًا مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ وَلَا الْوَرْسُ " سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے: محرم کون سے کپڑے پہنے؟ تو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”نہ پہنو قمیص، اور نہ باندھو عمامہ، اور نہ پہنو پائجامہ، اور نہ ٹوپی، اور نہ موزہ، مگر جس کو چپل نہ ملے تو وہ اپنے موزوں کو پہن لے، اور ان کو کاٹ ڈالے اس طرح کہ ٹخنے کھلے رہیں، اور نہ پہنو اُن کپڑوں کو جن میں زعفران لگی ہو اور وَرس۔“
قَالَ يَحْيَى : سُئِلَ مَالِك عَمَّا ذُكِرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " وَمَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ " فَقَالَ : لَمْ أَسْمَعْ بِهَذَا ، وَلَا أَرَى أَنْ يَلْبَسَ الْمُحْرِمُ سَرَاوِيلَ ، لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ السَّرَاوِيلَاتِ ، فِيمَا نَهَى عَنْهُ مِنْ لُبْسِ الثِّيَابِ الَّتِي لَا يَنْبَغِي لِلْمُحْرِمِ أَنْ يَلْبَسَهَا ، وَلَمْ يَسْتَثْنِ فِيهَا كَمَا اسْتَثْنَى فِي الْخُفَّيْنِامام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ یہ جو حدیث مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے: ”جو شخص تہبند نہ پائے تو وہ پائجامہ پہن لے“، کیا پائجامہ پہن لینا درست ہے جب تہبند نہ ملے؟ تو جواب دیا امام مالک رحمہ اللہ نے: میں نے اس حدیث کو نہیں سنا، اور میرے نزدیک محرم کو پائجامہ پہننا نہ چاہیے، اس واسطے کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا پائجامہ پہننے سے، اور اس کو استثناء نہ کیا جیساکہ موزوں کو استثناء کیا۔