موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الزكاة— کتاب: زکوٰۃ کے بیان میں
بَابُ مَكِيلَةِ زَكَاةِ الْفِطْرِ باب: صدقۂ فطر کی مقدار کا بیان
حدیث نمبر: 701
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، " كَانَ لَا يُخْرِجُ فِي زَكَاةِ الْفِطْرِ إِلَّا التَّمْرَ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً ، فَإِنَّهُ أَخْرَجَ شَعِيرًا " علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما صدقۂ فطر میں ہمیشہ کھجور دیا کرتے تھے، مگر ایک بار جو دئیے۔
قَالَ مَالِك : وَالْكَفَّارَاتُ كُلُّهَا وَزَكَاةُ الْفِطْرِ وَزَكَاةُ الْعُشُورِ كُلُّ ذَلِكَ بِالْمُدِّ الْأَصْغَرِ ، مُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الظِّهَارَ ، فَإِنَّ الْكَفَّارَةَ فِيهِ بِمُدِّ هِشَامٍ وَهُوَ الْمُدُّ الْأَعْظَمُعلامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جتنے کفارے اور صدقے اور زکوٰتیں ہیں وہ سب چھوٹے مُد کے حساب سے، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مُد سے ہیں، مگر ظہار کا کفارہ بڑے مُد سے ہے جو ہشام بن عبدالملک کا ہے۔