موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الزكاة— کتاب: زکوٰۃ کے بیان میں
بَابُ اشْتِرَاءِ الصَّدَقَةِ وَالْعَوْدِ فِيهَا باب: زکوٰۃ دے کر پھر اس کو خرید کرنے یا پھیرنے کا بیان
حدیث نمبر: 697
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَرَادَ أَنْ يَبْتَاعَهُ ، فَسَأَلَ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " لَا تَبْتَعْهُ وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ " . ¤ قَالَ يَحْيَى : سُئِلَ مَالِك ، عَنْ رَجُلٍ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَوَجَدَهَا مَعَ غَيْرِ الَّذِي تَصَدَّقَ بِهَا عَلَيْهِ تُبَاعُ أَيَشْتَرِيهَا ؟ ، فَقَالَ : تَرْكُهَا أَحَبُّ إِلَيَّعلامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک گھوڑا دیا اللہ کی راہ میں، پھر قصد کیا اس کے خریدنے کا، تو پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مت خرید اس کو اور نہ پھیر صدقہ کو۔“
امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: ایک شخص نے صدقہ دیا، پھر اس کو بکتا ہوا پایا اور کسی شخص کے پاس سوا اس شخص کے جس کو صدقہ دیا تھا، کیا خرید کرے؟ بولے: نہیں، خرید نہ کرنا بہتر ہے میرے نزدیک۔