حدیث نمبر: 69
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّهُ " رَأَى صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ امْرَأَةَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ تَنْزِعُ خِمَارَهَا وَتَمْسَحُ عَلَى رَأْسِهَا بِالْمَاءِ " . وَنَافِعٌ يَوْمَئِذٍ صَغِيرٌ . ¤ وَسُئِلَ مَالِك ، عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْعِمَامَةِ وَالْخِمَارِ فَقَالَ : لَا يَنْبَغِي أَنْ يَمْسَحَ الرَّجُلُ وَلَا الْمَرْأَةُ عَلَى عِمَامَةٍ وَلَا خِمَارٍ ، وَلْيَمْسَحَا عَلَى رُءُوسِهِمَا . ¤ وَسُئِلَ مَالِك ، عَنْ رَجُلٍ تَوَضَّأَ فَنَسِيَ أَنْ يَمْسَحَ عَلَى رَأْسِهِ حَتَّى جَفَّ وَضُوءُهُ ، قَالَ : أَرَى أَنْ يَمْسَحَ بِرَأْسِهِ وَإِنْ كَانَ قَدْ صَلَّى أَنْ يُعِيدَ الصَّلَاةَ
علامہ وحید الزماں

نافع سے روایت ہے کہ انہوں نے دیکھا صفیہ کو جو بیوی تھیں سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی۔ اُتارتی تھیں اس کپڑے کو جس سے سر ڈھانپتے ہیں اور مسح کرتی تھیں اپنے سر پر پانی سے۔ اور نافع اس وقت نا بالغ تھے۔
امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ مسح کے متعلق اوپر عمامہ کے یا سر بندھن کے، تو کہا: مرد کو عمامہ پر اور عورت کو سر بندھن پر مسح درست نہیں ہے، بلکہ مسح کرنا سر پر لازم ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا اس شخص کے بارے میں جس نے وضو کیا اور سر کا مسح بھول گیا، یہاں تک کہ اعضائے وضو خشک ہو گئے۔ تو جواب دیا: مسح کرے اپنے سر پر اور جو نماز پڑھ لی ہو اس کا اعادہ کرے۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / حدیث: 69
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع صحيح
تخریج حدیث «مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 286، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 51، شركة الحروف نمبر: 63، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 40» شیخ سلیم ہلالی اور شیخ احمد علی سلیمان نے کہا ہے کہ یہ روایت صحیح ہے۔

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ ابو سمیعہ
نافع سے روایت ہے کہ انہوں نے دیکھا صفیہ کو جو بیوی تھیں سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی۔ اُتارتی تھیں اس کپڑے کو جس سے سر ڈھانپتے ہیں اور مسح کرتی تھیں اپنے سر پر پانی سے۔ اور نافع اس وقت نا بالغ تھے۔ [موطا امام مالك: 69]
فائدہ:
اسے مسئلہ «موالاة» (یعنی پے در پے اور لگا تار وضو کرنا) کہتے ہیں، امام شافعی رحمہ اللہ اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک وضو میں سوالات واجب نہیں ہے، درمیان میں وقفہ کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک یہ چیز واجب تو ہے لیکن بھول کی وجہ سے ساقط ہو جاتی ہے، جبکہ امام احمد رحمہ اللہ اور اہل حدیث کے نزدیک وضو میں «موالاة» واجب ہے اور اگر درمیان میں اتنا وقفہ آ جائے کہ اعضائے وضو خشک ہو جائیں تو وضو کو لوٹانا واجب ہے، چنانچہ جب ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے قدم پر صرف ناخن کے برابر جگہ خشک رہ گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم فرمایا: «ارْجِعْ فَأَحْسِنُ وُضُوءَك» واپس لوٹ جاؤ اور اپنے وضو کو درست کرو۔ [مسلم: 243]، دوسری روایت میں مزید وضاحت کچھ اس طرح ہے کہ «فامَرَهُ النَّبِي صلى الله عليه وسلم أن يعيد الوُضُوءَ وَالصَّلَاةَ» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے حکم دیا کہ وضو بھی لوٹائے اور نماز بھی۔ [ابو داود: 175، مسند احمد: 146/3 - اس كي سند صحيح هے] مذکورہ بالا فتویٰ میں امام مالک رحمہ اللہ نے نسیان کی وجہ سے وضو دہرانے کا حکم نہیں دیا، بلکہ صرف مسح کر لینے کا حکم دیا کیونکہ مسح کرنا فرض ہے اور اس کے بغیر وضو مکمل نہیں ہوتا اور چونکہ وضو مکمل نہیں ہوا تھا اسی لیے نماز دوبارہ پڑھنے کا حکم دیا۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک از ابو سمیعہ محمود تبسم، حدیث/صفحہ نمبر: 69 سے ماخوذ ہے۔