موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الزكاة— کتاب: زکوٰۃ کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَخْذِ الصَّدَقَاتِ وَالتَّشْدِيدِ فِيهَا باب: زکوٰۃ دینے والوں پر سختی کا بیان
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَنَّهُ قَالَ : شَرِبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لَبَنًا فَأَعْجَبَهُ ، فَسَأَلَ الَّذِي سَقَاهُ : " مِنْ أَيْنَ هَذَا اللَّبَنُ ؟ " فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَرَدَ عَلَى مَاءٍ قَدْ سَمَّاهُ ، فَإِذَا نَعَمٌ مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ ، وَهُمْ يَسْقُونَ فَحَلَبُوا لِي مِنْ أَلْبَانِهَا فَجَعَلْتُهُ فِي سِقَائِي فَهُوَ هَذَا ، فَأَدْخَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَدَهُ فَاسْتَقَاءَهُ سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دودھ پیا تو بھلا معلوم ہوا۔ پوچھا کہ یہ دودھ کہاں سے آیا؟ جو لایا تھا وہ بولا کہ میں ایک پانی پر گیا تھا اور اس کا نام بیان کیا، وہاں پر جانور زکوٰۃ کے پانی پی رہے تھے، لوگوں نے ان کا دودھ نچوڑ کر مجھے دیا، میں نے اپنی مشک میں رکھ لیا، وہ یہی دودھ تھا جو آپ نے پیا۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ منہ میں ڈال کر قے کی۔
قَالَ مَالِك : الْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ كُلَّ مَنْ مَنَعَ فَرِيضَةً مِنْ فَرَائِضِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَلَمْ يَسْتَطِعِ الْمُسْلِمُونَ أَخْذَهَا ، كَانَ حَقًّا عَلَيْهِمْ جِهَادُهُ حَتَّى يَأْخُذُوهَا مِنْهُامام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ جو کوئی اس چیز کو جو اللہ کی طرف سے مقرر ہے روکے اور مسلمانوں کو لینے نہ دے تو مسلمانوں پر جہاد کرنا اس شخص سے لازم ہے، یہاں تک کہ لے لیں اس حق کو۔