موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الزكاة— کتاب: زکوٰۃ کے بیان میں
بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّضْيِيقِ عَلَى النَّاسِ فِي الصَّدَقَةِ باب: زکوٰۃ میں لوگوں کو تنگ کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 676
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، أَنَّهُ قَالَ : أَخْبَرَنِي رَجُلَانِ مِنْ أَشْجَعَ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيَّ كَانَ يَأْتِيهِمْ مُصَدِّقًا ، فَيَقُولُ لِرَبِّ الْمَالِ : " أَخْرِجْ إِلَيَّ صَدَقَةَ مَالِكَ " فَلَا يَقُودُ إِلَيْهِ شَاةً فِيهَا وَفَاءٌ مِنْ حَقِّهِ إِلَّا قَبِلَهَا علامہ وحید الزماں
محمد بن یحییٰ بن حبان سے روایت ہے کہ خبر دی مجھ کو دو شخصوں نے قبیلہ اشجع سے کہ محمد بن مسلمہ انصاری آتے تھے زکوٰۃ لینے کو تو کہتے تھے صاحبِ مال سے: لاؤ میرے پاس زکوٰۃ اپنے مال کی، پھر وہ جو بکری لے کر آتا، اگر وہ زکوٰۃ کے لائق ہوتی تو قبول کر لیتے۔
قَالَ مَالِك : السُّنَّةُ عِنْدَنَا وَالَّذِي أَدْرَكْتُ عَلَيْهِ أَهْلَ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا أَنَّهُ لَا يُضَيَّقُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فِي زَكَاتِهِمْ وَأَنْ يُقْبَلَ مِنْهُمْ مَا دَفَعُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْعلامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارے نزدیک سنّت یہ ہے اور اسی پر ہم نے اپنے شہر کے اہلِ علم کو پایا کہ زکوٰۃ لینے میں مسلمانوں پر تنگی نہ کی جائے، اور جو وہ دیں قبول کیا جائے۔