موطا امام مالك رواية يحييٰ
— کتاب: طہارت کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ بِالرَّأْسِ وَالْأُذُنَيْنِ باب: سر اور کانوں کے مسح کا بیان
حدیث نمبر: 67
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ ، سُئِلَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْعِمَامَةِ ، فَقَالَ : " لَا ، حَتَّى يُمْسَحَ الشَّعْرُ بِالْمَاءِ "علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سیّدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما پوچھے گئے عمامہ پر مسح کرنے سے، تو کہا کہ نہ کرے یہاں تک کہ مسح کرے بال کا پانی سے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ ابو سمیعہ
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سیّدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما پوچھے گئے عمامہ پر مسح کرنے سے، تو کہا کہ نہ کرے یہاں تک کہ مسح کرے بال کا پانی سے۔ [موطا امام مالك: 67]
فائدہ:
اس عبارت سے ایک مفہوم تو یہ نکلتا ہے کہ پگڑی پرمسح درست ہی نہیں، اسے اتارو، پھر بالوں کا مسح کرو، چنانچہ امام مالک رحمہ اللہ آئندہ روایات سے یہی مفہوم ثابت کر رہے ہیں۔
دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اکیلی پگڑی پر مسح درست نہیں، ہاں اگر کچھ مسح بالوں پر بھی ہو جائے تو پھر درست ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ، امام شافعی رحمہ اللہ اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اکیلی پگڑی پر مسح کے قائل نہیں ہیں، اور امام احمد رحمہ اللہ اس کے قائل ہیں، اس مسئلے میں راجح قول یہ ہے کہ صرف سر کا مسح، صرف پگڑی کا مسح یا سر کے چوتھائی حصے (یعنی ناصیہ) پر مسح کر کے باقی مسح پگڑی پر کر لینا سب درست اور جائز ہے۔
[نيل الاوطار: 257/1، تحفة الأحوذي: 358/1، الروضة الندية: 129/1]
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے: «أَنَّهُ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَعَلَى الْعِمَامَةِ»
يعنى رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا اور سر کے اگلے حصے کے بالوں پر اور پگڑی پر مسح فرمایا۔ [مسلم: 274/81] جبکہ حضرت عمرو بن اُمیہ ضمری رضی اللہ عنہ [بخاري: 205] اور خود حضرت مغیرہ بن شعبه رضی اللہ عنہ [ترمذي: 100] کی روایات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اکیلی پگڑی پر مسح کرنا ثابت ہے۔
اس عبارت سے ایک مفہوم تو یہ نکلتا ہے کہ پگڑی پرمسح درست ہی نہیں، اسے اتارو، پھر بالوں کا مسح کرو، چنانچہ امام مالک رحمہ اللہ آئندہ روایات سے یہی مفہوم ثابت کر رہے ہیں۔
دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اکیلی پگڑی پر مسح درست نہیں، ہاں اگر کچھ مسح بالوں پر بھی ہو جائے تو پھر درست ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ، امام شافعی رحمہ اللہ اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اکیلی پگڑی پر مسح کے قائل نہیں ہیں، اور امام احمد رحمہ اللہ اس کے قائل ہیں، اس مسئلے میں راجح قول یہ ہے کہ صرف سر کا مسح، صرف پگڑی کا مسح یا سر کے چوتھائی حصے (یعنی ناصیہ) پر مسح کر کے باقی مسح پگڑی پر کر لینا سب درست اور جائز ہے۔
[نيل الاوطار: 257/1، تحفة الأحوذي: 358/1، الروضة الندية: 129/1]
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے: «أَنَّهُ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَعَلَى الْعِمَامَةِ»
يعنى رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا اور سر کے اگلے حصے کے بالوں پر اور پگڑی پر مسح فرمایا۔ [مسلم: 274/81] جبکہ حضرت عمرو بن اُمیہ ضمری رضی اللہ عنہ [بخاري: 205] اور خود حضرت مغیرہ بن شعبه رضی اللہ عنہ [ترمذي: 100] کی روایات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اکیلی پگڑی پر مسح کرنا ثابت ہے۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک از ابو سمیعہ محمود تبسم، حدیث/صفحہ نمبر: 67 سے ماخوذ ہے۔