موطا امام مالك رواية يحييٰ
— کتاب: طہارت کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ بِالرَّأْسِ وَالْأُذُنَيْنِ باب: سر اور کانوں کے مسح کا بیان
حدیث نمبر: 66
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، " كَانَ يَأْخُذُ الْمَاءَ بِأُصْبُعَيْهِ لِأُذُنَيْهِ " علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے کانوں کے مسح کے واسطے دو انگلیوں سے پانی لیتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ ابو سمیعہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے کانوں کے مسح کے واسطے دو انگلیوں سے پانی لیتے تھے۔ [موطا امام مالك: 66]
فائدہ:
اس روایت کی بنا پر محققین علماء کے ہاں کانوں کے مسح کے لیے الگ پانی لینا جائز ہے اور بیہقی و حاکم کی جو روایت اس بارے میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے پیش کی جاتی ہے، وہ اس سند سے صحیح مسلم [حديث: 238] میں موجود ہے اور اس میں سر کے لیے نیا پانی لینے کا تذکرہ ہے، نہ کہ کانوں کے لیے، اسی لیے محدثین نے بیہقی و حاکم کی روایت کو شاذ قرار دیا ہے، بہر حال کانوں کے لیے نیا پانی نہ لینا بہتر اور افضل ہے اور لے لینا صرف جائز ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کانوں کے لیے الگ پانی لینا ثابت نہیں ہو سکا بلکہ پیچھے [موطا كي روايت: 59] سے یہ واضح ہو چکا ہے کہ کان تو سر ہی کا حصہ ہیں، لٰہذا سر والا پانی کانوں کے لیے کافی ہے۔
اس روایت کی بنا پر محققین علماء کے ہاں کانوں کے مسح کے لیے الگ پانی لینا جائز ہے اور بیہقی و حاکم کی جو روایت اس بارے میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے پیش کی جاتی ہے، وہ اس سند سے صحیح مسلم [حديث: 238] میں موجود ہے اور اس میں سر کے لیے نیا پانی لینے کا تذکرہ ہے، نہ کہ کانوں کے لیے، اسی لیے محدثین نے بیہقی و حاکم کی روایت کو شاذ قرار دیا ہے، بہر حال کانوں کے لیے نیا پانی نہ لینا بہتر اور افضل ہے اور لے لینا صرف جائز ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کانوں کے لیے الگ پانی لینا ثابت نہیں ہو سکا بلکہ پیچھے [موطا كي روايت: 59] سے یہ واضح ہو چکا ہے کہ کان تو سر ہی کا حصہ ہیں، لٰہذا سر والا پانی کانوں کے لیے کافی ہے۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک از ابو سمیعہ محمود تبسم، حدیث/صفحہ نمبر: 66 سے ماخوذ ہے۔