حدیث نمبر: 650
وَحَدَّثَنِي زِيَاد ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَذْهَبُ لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ فِي الْبُيُوتِ "
علامہ وحید الزماں

ابن شہاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حاجتِ ضروری کے لیے گھروں میں آتے تھے اعتکاف کی حالت میں۔

قَالَ مَالِك : لَا يَخْرُجُ الْمُعْتَكِفُ مَعَ جَنَازَةِ أَبَوَيْهِ وَلَا مَعَ غَيْرِهَا
علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: معتکف جنازہ کے ساتھ نہ جائے اگرچہ اس کے ماں باپ کا جنازہ ہو یا کسی اور کا۔

قَالَ مَالِكٌ : لَا بَأْسَ بِنِكَاحِ الْمُعْتَكِفِ نِكَاحَ الْمِلْكِ. مَا لَمْ يَكُنِ الْمَسِيسُ، وَالْمَرْأَةُ الْمُعْتَكِفَةُ أَيْضًا ، تُنْكَحُ نِكَاحَ الْخِطْبَةِ. مَا لَمْ يَكُنِ الْمَسِيسُ ، وَيَحْرُمُ عَلَى الْمُعْتَكِفِ مِنْ أَهْلِهِ، بِاللَّيْلِ مَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ مِنْهُنَّ بِالنَّهَارِ.
علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر معتکف اعتکاف کی حالت میں اپنا عقد کرے تو کچھ قباحت نہیں ہے، مگر مساس درست نہیں ہے، اسی طرح عورت بھی حالتِ اعتکاف میں صرف عقد کر سکتی ہے، مساس نہیں۔ اور معتکف کو اپنی بی بی سے جو کام دن میں منع ہے وہی رات کو بھی منع ہے۔

قَالَ مَالِكٌ : وَلَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يَمَسَّ امْرَأَتَهُ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ. وَلَا يَتَلَذَّذُ مِنْهَا بِقُبْلَةٍ وَلَا غَيْرِهَا
علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: معتکف کو درست نہیں کہ اپنی بی بی سے جماع کرے یا اس سے کسی طرح کی لذت اٹھائے، مثلاً بوسہ لے یا اور کچھ کرے۔

وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا يَكْرَهُ لِلْمُعْتَكِفِ وَلَا لِلْمُعْتَكِفَةِ أَنْ يَنْكِحَا فِي اعْتِكَافِهِمَا. مَا لَمْ يَكُنِ الْمَسِيسُ. فَيُكْرَهُ. وَلَا يُكْرَهُ لِلصَّائِمِ أَنْ يَنْكِحَ فِي صِيَامِهِ ، وَفَرْقٌ بَيْنَ نِكَاحِ الْمُعْتَكِفِ ، وَنِكَاحِ الْمُحْرِمِ. أَنَّ الْمُحْرِمَ يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ ، وَيَعُودُ الْمَرِيضَ ، وَيَشْهَدُ الْجَنَائِزَ ، وَلَا يَتَطَيَّبُ. وَالْمُعْتَكِفُ وَالْمُعْتَكِفَةُ يَدَّهِنَانِ ، وَيَتَطَيَّبَانِ ، وَيَأْخُذُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنْ شَعَرِهِ ، وَلَا يَشْهَدَانِ الْجَنَائِزَ ، وَلَا يُصَلِّيَانِ عَلَيْهَا ، وَلَا يَعُودَانِ الْمَرِيضَ ، فَأَمْرُهُمَا فِي النِّكَاحِ مُخْتَلِفٌ
علامہ وحید الزماں

کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: میں نے کسی سے نہیں سنا جو اس امر کو منع کرتا ہو کہ معتکف مرد اور معتکفہ عورت اپنا نکاح پڑھ لیں اعتکاف میں، البتہ یہ ضرور ہے کہ جماع نہ کریں، اسی طرح روزہ دار کو درست ہے کہ روزے میں نکاح کرے اور معتکف اور محرم میں یعنی جو شخص احرام باندھے ہو حج یا عمرہ کا، فرق یہ ہے کہ محرم کھائے اور پیئے اور بیمار پرسی کو جائے اور جنازہ کے ساتھ جائے اور خوشبو نہ لگائے۔ اور معتکف خوشبو لگائے، تیل ڈالے اگر چاہے تو بال کتروائے، مگر جنازہ کے ساتھ نہ جائے اور نماز نہ پڑھے جنازہ کی اور نہ بیمار پرسی کرے، تو ان دونوں کا حکم نکاح میں بھی مختلف ہے۔

وَذَلِكَ الْمَاضِي مِنَ السُّنَّةِ ، فِي نِكَاحِ الْمُحْرِمِ ، وَالْمُعْتَكِفِ وَالصَّائِمِ.
علامہ وحید الزماں

کہا مالک رحمہ اللہ نے: یہ احکام اس طریقے کے بموجب ہیں جو سلف میں تھا نکاحِ محرم اور معتکف اور صائم میں۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الاعتكاف / حدیث: 650
درجۂ حدیث محدثین: مرفوع صحيح
تخریج حدیث «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2029، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 297، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2467، والترمذي فى «جامعه» برقم: 804، والنسائي فى «الكبريٰ» برقم: 3369، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1776، وأحمد فى «مسنده» برقم: 25026، شركة الحروف نمبر: 646، فواد عبدالباقي نمبر: 19 - كِتَابُ الِاعْتِكَافِ-ح: 8»