حدیث نمبر: 65
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اسْتَقِيمُوا وَلَنْ تُحْصُوا وَاعْمَلُوا وَخَيْرُ أَعْمَالِكُمُ الصَّلَاةُ وَلَا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ "
علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیدھی راہ پر رہو، اور نہ شمار کر سکو گے تم اس کے ثواب کو، یا نہ طاقت رکھو گے تم استقامت کی، اور سب کاموں میں تمہارے لیے بہتر نماز ہے، اور نہ محافظت کرے گا وضو پر مگر مؤمن۔“

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / حدیث: 65
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، و أخرجه ابن ماجه فى «سننه» برقم:277، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7463 7464 والحميدي فى «مسنده» برقم: 997، 998، والدارمي فى «سننه» برقم: 655، 656، وابن حبان فى «صحيحه» برقم:1294، 1295، والطبراني فى «الصغير» برقم: 256، 942، شركة الحروف نمبر: 60، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 36» شیخ سلیم ہلالی نے اس روایت کو صحیح لغیرہ کہا ہے اور شیخ البانی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے۔

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ ابو سمیعہ
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سیدھی راہ پر رہو، اور نہ شمار کر سکو گے تم اس کے ثواب کو، یا نہ طاقت رکھو گے تم استقامت کی، اور سب کاموں میں تمہارے لیے بہتر نماز ہے، اور نہ محافظت کرے گا وضو پر مگر مؤمن۔ [موطا امام مالك: 65]
فائدہ:
یعنی تمہاری کوشش تو یہی ہو کہ استقامت کا اور سیدھی راہ پر قائم رہنے کا مکمل حق ادا ہو جائے جیسا کہ فرمان الٰہی ہے: «اتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقَاتِهِ» [آل عمران 3: 102] اللہ سے یوں ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔
لیکن ہم سب انسان چونکہ نقائص سے بھر پور ہیں اور ہر جانب دنیوی الجھنیں اور دلچسپیاں ہمارے لیے رکاوٹ بنتی رہتی ہیں، اس لیے یہ بھی فرما دیا: «فاتقوا الله ما اسْتَطَعْتُمْ» [التغابن 16: 64] اللہ سے اس قدر ڈرو جتنی تم میں طاقت ہے۔
نیز ثابت ہوا کہ حفاظت و احتیاط سے وضو کرنا ایمان کی نشانی ہے اور جو کوتاہی کرے اس کے ایمان میں کمی ہے۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک از ابو سمیعہ محمود تبسم، حدیث/صفحہ نمبر: 65 سے ماخوذ ہے۔